1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

مظہر مجید کے بارے میں بورڈ کو بتانا چاہیے تھا، سلمان بٹ کا اعتراف

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے لندن کی ایک عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے برطانوی ایجنٹ مظہر مجید کی میچ فکسنگ کی پیشکشوں کو نظر انداز کیا تھا۔

default

سلمان بٹ

سلمان بٹ اور پاکستان کے نامور فاسٹ بولر محمد آصف لندن میں اسپاٹ فکسنگ سے متعلق مقدمہ بھگت رہے ہیں۔ ان سمیت ایک اور پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر پر الزام تھا کہ یہ کھلاڑی برطانیہ میں کھیلے گئے ایک میچ میں اسپاٹ فکسنگ کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان کھلاڑیوں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے تاہم انہوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔

پیر کے روز لندن کی عدالت میں پیشی کے موقع پر سلمان بٹ نے اعتراف کیا کہ مظہر مجید ان کو اسپاٹ فکسنگ اور میچ فکسنگ کی پیشکش کرتے تھے اور ان کو اس بارے میں حکام کو بتا دینا چاہیے تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ مظہر مجید کی آفرز کو ٹھکراتے رہے۔ انہوں نے اس بارے میں مثال دیتے ہوئے گزشتہ برس کے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دانستہ وکٹیں گنوانے اور گزشتہ برس موسم گرما میں برطانیہ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں رنز نہ کرنے کی پیشکش کو بھی رد کر دیا تھا۔

Kombo Pakistan Cricket Korruption Salman Butt Mohammad Asif und Mohammad Amir

سلمان بٹ اور پاکستان کے نامور فاسٹ بولر محمد آصف لندن میں اسپاٹ فکسنگ سے متعلق مقدمہ بھگت رہے ہیں

بٹ نے عدالت سے کہا کہ اگست دو ہزار دس کے اوول ٹیسٹ میچ سے قبل شام کے وقت انہیں ایجنٹ نے فون کیا تھا۔ خیال رہے کہ یہ ٹیلی فونک بات چیت غیر فعال اخبار ’نیوز آف دا ورلڈ‘ کے ایک انڈر کور صحافی نے ریکارڈ کیا تھا۔ سلمان بٹ نے اس اوور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جس میں کوئی رن اسکور نہیں ہوا تھا:

''کیا تم پہلے اوور کے بارے میں جانتے ہو جو کہ میڈن ہوگا؟‘ تیسرا اوور جو تم کھیلو گے اسے میں بھی کوئی اسکور نہ کرو،‘‘ سلمان بٹ نے مظہر مجید کے حوالے سے کہا اور پھر اپنا جواب عدالت کو یوں بتایا: ’’برادر، بس رہنے دو، ٹھیک ہے؟‘‘ بٹ کا کہنا تھا، ’’میں کہنا چاہتا تھا کہ بس بہت ہو گیا۔ میں یہ بات چیت بہت سن چکا ہوں۔‘‘

سلمان بٹ نے مظہر مجید کی اس ٹیلی فون کال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو کہ انہوں نے میچ کی صبح کی تھی اور جس میں انہوں نے اسی پیشکش کو دہرایا تھا۔ بٹ کا اردو میں جواب تھا، ’’ٹھیک ہے۔‘‘ تاہم بٹ نے عدالت سے کہا ان کا ارادہ بات چیت کو فوری طور پر ختم کر دینے کا تھا۔ ’’میں چاہتا تھا کہ یہ بات چیت فوراً ختم ہو جائے اور کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ مجھے اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی جو وہ کہہ رہا تھا۔‘‘

رپورٹ: شامل شمس ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM