1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مظاہرین پر فائرنگ کا مقدمہ، متاثرہ یمنی خاندانوں کا بائیکاٹ

جمہوریت کے حق میں مظاہرے کرنے والے 53 مظاہرین کے قتل کے الزام میں یمن میں 78 افراد کے خلاف شروع ہونے والے مقدمے کی سماعت کا متاثرہ خاندانوں نے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

default

ہلاک شدگان کے لواحقین نے ایک مرتبہ پھر اپنا یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ صدر علی عبداللہ صالح اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ متاثرہ خاندانوں کے وکیل عبدالرحمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ عدالت میں صرف 27 ملزمان پیش ہوئے جبکہ مظاہرین پر فائرنگ کے مبینہ طور پر ذمہ دار اہلکاروں میں سے کوئی ایک بھی اہم ملزم عدالت میں حاضر نہیں ہوا۔

بند کمرے میں ہونے والی اس مقدمے کی عدالتی سماعت سے چند گھنٹے قبل واشنگٹن میں یمنی سفارتخانے کی جانب سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا کہ ملک کے جنوب میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں نے یمن کی خراب سکیورٹی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

18 مارچ کو دارالحکومت صنعاء کی یونیورسٹی میں تاک کر نشانہ بنائے جانے والے یہ 53 مظاہرین صدر علی عبداللہ صالح کے 33 سالہ دور اقتدار کے خاتمے کے لیے نعرے لگا رہے تھے۔ اس واقعے کو یمن میں رواں برس کے دوران اب تک کا سب سے خونریز واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔

Jemen Demonstration gegen Regierung Kontrollpunkt in Sanaa

یمنی سفارتخانے کے مطابق القاعدہ کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے

متاثرہ خاندانوں کے وکیل عبدالرحمان کے مطابق وزارت داخلہ نے واقعے سے قبل یونیورسٹی سے سکیورٹی اہلکاروں کو ہٹا کر قاتلوں کی معاونت کی تھی۔ اس واقعے کے بعد صدر صالح نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا تھا۔

تیونس میں عوامی مظاہروں کے بعد صدر زین العابدین بن علی کے اقتدار چھوڑ کر ملک سے فرار ہو جانے کے بعد مصر، لیبیا، شام اور یمن سمیت متعدد عرب ریاستوں میں جمہوریت کے حق میں مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔ مصر میں ایسے ہی مظاہروں کے نتیجے میں گزشتہ کئی عشروں سے برسر اقتدار صدر حسنی مبارک کو بھی اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے تاہم یمنی صدر علی عبداللہ صالح منصب صدارت چھوڑنے سے تاحال انکار کر رہے ہیں۔

عبدالرحمان کے مطابق: ’’عدالت کے بند کمرہ اجلاس میں 27 ملزمان پیش ہوئے جبکہ باقی ملزمان کے خلاف ان کی غیر حاضری میں مقدمے کا آغاز کر دیا گیا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے اصل ذمہ داران کو نہ تو تفتیش کا حصہ بنایا گیا اور نہ ہی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ ان ہلاکتوں کے اصل ذمہ دار عناصر کے ساتھ ساتھ ملک کی سینٹرل سکیورٹی کے سربراہ اور سٹاف کے علاوہ اسپیشل فورسز کے کمانڈر کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس