1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مظاہرین نے تحریر اسکوائر چھوڑنے سے انکار کر دیا

مصر میں مظاہرین نے حسنی مبارک کی جانب سے اقتدار چھوڑنے کے باوجود دارالحکومت قاہرہ کا تحریر اسکوائر چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصلاحات کے لیے ان کے مطالبات تسلیم کیے جانے تک وہ گھروں کو نہیں لوٹیں گے۔

default

حسنی مبارک نے 30 برس بعد اقتدار چھوڑنے کا اعلان جمعہ کی شام کیا، جو مصر میں اٹھارہ روز تک جاری رہنے والے عوامی احتجاج کے بعد سامنے آیا۔ اقتدار اس وقت اعلیٰ عسکری کونسل کے ہاتھ میں ہے۔

Ägypten Kairo Proteste

حسنی مبارک کے مستعفی ہونے کا اعلان نائب صدر عمر سلیمان نے کیا

تاہم احتجاج کا مرکز بنے رہنے والے تحریر اسکوائر پر جمع بیشتر افراد نے یہ کہتے ہوئے گھروں کو لوٹنے سے انکار کیا ہے کہ جب تک اصلاحات کے لیے ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ وہاں سے نہیں ہِلیں گے۔

اُدھر ہفتہ کو دِن نکلتے ہی فوج نے تحریر اسکوائر پر کھڑی رکاوٹیں اٹھانے کا کام بھی شروع کر دیا جبکہ اسکوائر کا ایک حصہ ٹریفک کے لیے بھی کھول دیا گیا۔ تحریر اسکوائر پر جمع مظاہرین کو وہاں صفائی کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

جمعہ کو رات گئے احتجاج کے منتظمین نے دو اعلامیے جاری کیے، جن میں حسنی مبارک کی جانب سے نافذ ایمرجنسی اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے مبارک کی جانب سے 29 جنوری کو مقرر کی گئی کابینہ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ بھی کیا جبکہ یہ بھی کہا کہ گزشتہ برس کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والے پارلیمنٹ کو بھی معطل کیا جائے۔

اصلاحات پسند کارکن چاہتے ہیں کہ پانچ رکنی صدارتی کونسل بنائی جائے، جس کا صرف ایک رکن فوج سے ہو۔ وہ آئندہ نو ماہ کے اندر انتخابات بھی چاہتے ہیں جبکہ نئے جمہوری آئین کا مسودہ تیار کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے آزاد میڈیا کا نکتہ بھی اٹھایا ہے۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ عسکری اور ایمرجنسی عدالتیں ختم کی جائیں۔ دوسری جانب مصر بھر میں جشن کا سماں بدستور برقرار ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے مصر میں تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اپنی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کو اردن اور اسرائیل روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

NO FLASH Revolution in Ägypten

مظاہرے پچیس جنوری کو شروع ہوئے

مصر میں حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بننے والے مظاہرے 25 جنوری کو شروع ہوئے۔ اس دوران مظاہرین ملک میں بے روزگاری، غربت اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے مبارک سے اقتدار سے علیٰحدہ ہونے کا مطالبہ کرتے رہے۔

قبل ازیں حسنی مبارک نے اقتدار سے فوری طور پر علیٰحدہ ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ستمبر کے انتخابات تک صدارت کے منصب پر فائز رہیں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM