1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مظاہرین عسکریت پسندوں کو فرار کرانے میں مدد کرتے ہیں، بھارتی فورسز کا الزام

بھارتی کشمیر کے حکام کے مطابق عسکریت پسندوں کو فرار کرانے کے لیے کشمیری نوجوان مظاہروں کی شکل میں اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں اور کئی دہائیوں سے جاری کشمیریوں کی علیحدگی پسند تحریک میں یہ ایک پریشان کُن پیشرفت ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی فورسز اور بھارت مخالف عسکریت پسندوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران اکثر ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اس جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔ غم و غصے سے بھرے یہ نوجوان سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرتے ہیں اور نعرہ بازی کرتے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق ان کا مقصد گھیرے میں آئے ہوئے کشمیری عسکریت پسندوں کی طرف سے سکیورٹی فورسز کا دھیان ہٹانا ہوتا ہے تاکہ وہ وہاں سے فرار ہو سکیں۔ بھارتی سکیورٹی حکام کے مطابق متعدد واقعات میں وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب رہے۔ تاہم اس دوران مظاہرے کرنے والے کئی افراد ہلاک ہوئے اور بڑی تعداد میں زخمی بھی۔

پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے انسپکٹر جنرل نالن پرابھت نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’بغاوت کے خاتمے کے کسی آپریشن کے دوران موقع پر پہنچ جانے والے ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘ پرابھت کے مطابق، ’’وہ کوشش کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کو بے اثر بنانے کی کوششوں سے توجہ ہٹائی جائے۔‘‘

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں 1989ء سے مسلح تحریک جاری ہے جس کا مقصد کشمیر کو بھارت سے الگ کر کے ایک خودمختار ریاست کا قیام یا پھر اس کی ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ الحاق ہے۔ اس دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہزارہا کشمیری ہلاک ہو چکے ہیں جن کی اکثریت سویلین افراد پر مشتمل ہے۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران پانچ کشمیری نوجوان سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں

گزشتہ چند دنوں کے دوران پانچ کشمیری نوجوان سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں

مسلم اکثریتی اس خطے میں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فورسز کی تعیناتی کے بعد حالیہ برسوں میں اس وادی میں عسکریت پسندی میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی مگر 2008ء سے 2010ء کے دوران بھارتی اقتدار کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے جاتے رہے تھے۔ بھارتی حکام کے مطابق اس وقت قریب 200 اکثریت پسند اس وادی میں موجود ہیں جو بھارتی فورسز کے خلاف مسلح کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی زیادہ تر تعداد مقامی نوجوانوں پر ہی مشتمل ہے۔ 1990ء کی دہائی میں ایسے عسکریت پسندوں کی تعداد کئی ہزاروں میں تھی۔

گزشتہ منگل کے روز ایک بھارتی فوجی کی طرف سے ایک مقامی طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی خبروں کے بعد کشمیر کے شمالی شہر ہندواڑہ میں غم وغصے سے بھرے کشمیری نوجوان ایک فوجی بنکر پر چڑھ دوڑے۔ فوج کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں تین کشمیری نوجوان ہلاک ہو گئے۔ جبکہ بدھ کے روز مظاہرین کی پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں بھی ایک نوجوان کی ہلاکت ہوئے اور پھر جمعہ کے روز بھی ایک نوجوان فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہوا تھا۔