1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مطلوب افراد کی فہرست میں غلطی کا بھارتی اعتراف

بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پاکستان کو دی گئی ’انتہائی مطلوب‘ افراد کی فہرست میں غلطی کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ محض بھول ہے اور کوئی بڑی غلطی نہیں۔

default

بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم

اس غلطی کو نئی دہلی حکومت کے لیے باعثِ ندامت قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارت نے کہا تھا کہ اس فہرست میں جن مشتبہ دہشت گردوں کے نام درج تھے، وہ پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں۔ تاہم ان میں سے ایک کو بھارتی شہر ممبئی میں پایا گیا ہے۔

بھارت نے یہ فہرست رواں برس کے آغاز پر پاکستان کے حوالے کی تھی۔ تاہم اس بات کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت کے بعد اس فہرست کا ذکر کر کے نئی دہلی حکومت اسلام آباد پر دباؤ بڑھانا چاہتی تھی۔

اس فہرست میں واعظ القمر خان کا نام شامل ہے، جو 2003ء میں ممبئی میں ٹرینوں میں بم دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے مطلوب تھا۔ تاہم اسے ممبئی کے ایک مضافاتی علاقے میں رہتے ہوئے پایا گیا ہے۔ دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتاری کے بعد وہ ضمانت پر ہے۔

پی چدمبرم نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’ہم ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ غلطی ہوئی ہے۔‘

انہوں نے وضاحت کی کہ ممبئی پولیس نے اس حوالے سے وفاقی حکام کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’اگر سی بی آئی (وفاقی پولیس) کو اس بارے میں باقاعدہ طور پر مطلع کیا گیا ہوتا، تو مجھے یقین ہے کہ وہ فہرست کو اپ ڈیٹ کر دیتی۔‘

NO FLASH Anschläge Mumbai Indien 2008

ممبئی حملے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بنے

پی چدمبرم کا مزید کہنا تھا، ’میں مطمئن ہوں کہ یہ حقیقی بھول ہے، لیکن یہ کوئی بڑی غلطی نہیں۔‘

انہوں نے کہا، ’اس غلطی سے تباہ کن نتائج برآمد نہیں ہوں گے، جیسا کہ آپ میں سے کچھ (صحافی) سمجھ رہے ہیں۔‘

بھارت پاکستان میں موجود لشکر طیبہ جیسے گروہوں کو اپنے ہاں حملوں کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ نئی دہلی حکام پاکستان کو ممبئی کے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کو پناہ دینے کا الزام دیتے ہیں۔ 2008ء کے ممبئی حملے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بنے تھے۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ممبئی حملوں کے بعد بھی بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بیس ’انتہائی مطلوب’ انتہاپسندوں کو اس کے حوالے کرے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM