1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مضبوط امریکی معیشت پوری دنیا کے حق میں ہے، باراک اوباما

جی ٹونٹی سربراہی کانفرنس کے موقع پر باراک اوباما نے یہ بیان امریکی مالیاتی پالیسی پر کی جانے والی اس تنقید کو رد کرتے ہوئے دیا جس میں کہا جارہا ہے کہ امریکہ ڈالر کی قدر میں کمی کرکے عالمی سطح پرمعاشی فوائد حاصل کررہا ہے۔

default

باراک اوباما جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ

جی ٹونٹی سمٹ کے باقاعدہ آغاز سے قبل امریکی صدر نے اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب لی میون بَک سے ملاقات کے بعد امریکی معیشت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا، ’’ عالمی معیشت کے حق میں امریکہ جو سب سے بہترین کام کرسکتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ترقی کرے، کیونکہ ہم ہنوز دنیا کی سب سے بڑی تجارتی منڈی ہیں، بلکہ امریکہ کی اہمیت ایک تجارتی انجن کی سے ہے جو دیگر تمام ممالک کی معاشی نمو میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔‘‘

G20 Angela Merkel Seoul NO FLASH

’’ فاضل کرنٹ اکاؤنٹ یا خسارے کی حدمقرر کرنا نہ تو معاشی طور پر جائز ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر درست۔‘‘: جرمن چانسلرانگیلا میرکل

امریکی صدر سے اس تنقید کے بارے میں ردعمل پوچھا گیا تھا جس میں جرمنی سمیت دیگر کئی ملکوں نے امریکی مرکزی بینک پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ڈالر کی قدر میں کمی لاتے ہوئے اضافی کرنسی چھاپی ہے تاکہ ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لئے تجارتی بانڈز خریدے جاسکیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل چینی حکام کے ساتھ مل کر امریکہ کی طرف سے مجوزہ منصوبے کے بڑے نقاد کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اس منصوبے میں کرنٹ اکاؤنٹس اور فاضل تجارت کی حد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جرمن چانسلر کا سیئول میں اس حوالے سے کہنا تھا،’’ فاضل کرنٹ اکاؤنٹ یا خسارے کی حدمقرر کرنا نہ تو معاشی طور پر جائز ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر درست۔‘‘

Logo G20 Seoul Summit

دو روزہ جی ٹونٹی سربراہی کانفرنس کا آغاز آج سے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں ہوا ہے

آج جمعرات کے روز جی ٹونٹی سربراہی اجلاس کے سلسلے میں درجنوں باہمی ملاقاتیں ہوئیں تاہم اس سمٹ کا باقاعدہ اجلاس ایک ورکنگ ڈنر کے بعد ہورہا ہے۔

دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں پر مشتمل گروپ جی ٹونٹی کے اس دوروزہ سربراہ اجلاس کے دوران عالمی معاشی بحران سے نکلنے کے لئے متفقہ لائحہ عمل تک پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس اجلاس میں شریک ممالک کی طرف سے کرنسیوں کی قدر کے حوالے سے پائے جانے والے تناؤ کو بھی کم کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس کی وجہ سے برآمدات کرنے والے امیر ممالک اور درآمدات کرنے والے غریب ممالک کے درمیان عدم توازن بڑھ رہا ہے۔

اسی حوالے سے امریکی صدر نے توقع ظاہر کی ہے کہ عالمی رہنما ایسے اقدامات پر متفق ہوجائیں گے جو زیادہ متوازن اور دیرپا عالمی معاشی ترقی کی وجہ بنیں گے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس