1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مضایا کا المیہ بدستور جاری

شامی شہری مضایا میں انسانی بحران کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ امدادی اشیاء پہنچنے کے بعد بھی وہاں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ ایم ایس ایف‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ شامی شہر مضایا میں مزید سولہ افراد بھوک سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس تنظیم نے مزید بتایا کہ شہر میں ابھی بھی ایک بڑی تعداد میں ایسے افراد موجود ہیں، جنہیں فوری امداد کی ضرورت ہے اور یہ لوگ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ایم ایس ایف کے بقول: ’’ امداد اگر ان افراد تک نہ پہنچی تو یہ بھی ہلاک ہو سکتے ہیں‘‘۔ بھوک کا شکار ہونے والے ان تازہ واقعات کے بعد دسمبر سے اب تک مضایا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 46 تک پہنچ چکی ہے۔

مضایا شام کے صوبے دمشق کا حصہ ہے۔ صدر بشارالاسد کے حامی دستوں اور لبنانی شدت پسند تنظیم حزب اللہ کے جنگجؤں نے اس کا محاصرہ کیا ہوا ہے جبکہ شہر کے اندر اسد مخالف گروپوں کا قبضہ ہے۔

مضایا میں کھانے پینے کی اشیاء کی اس قدر قلت پیدا ہو گئی تھی کہ شہری حرام جانور اور درختوں کے پتے کھانے پر مجبور تھے۔ اس صورتحال اور اقوام متحدہ کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کے بعد شامی حکام نے اس شہر میں امدادی سامان لے جانے کی اجازت دی تھی۔

اس سلسلے میں گزشتہ برس ستمبر میں ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت چار شہروں میں امداد پہنچانے پر فریقین نے رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس کے بعد ابتدائی طور پر وہاں سامان پہنچایا گیا لیکن اس کے بعد گیارہ جنوری 2016ء تک وہاں باقاعدہ امداد نہیں پہنچائی گئی۔ تمام امدادی تنظیموں کا موقف ہے کہ یہ امداد علاقے کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ناکافی ہے۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق یہ بات بالکل بھی ناقابل قبول ہے کہ مضایا کی صورتحال ابھی تک تشویشناک ہے اور لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ ’’ کئی ہفتے گزر چکے ہیں لیکن اُن افراد کو ابھی تک علاقے سے نہیں نکالا جا سکا ہے، جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے‘‘۔ ایم ایس ایف کے برائس دے لے وگنے کے بقول شامی تنازعے کے فریقین اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ ’’وہ انسانوں کو ڈھال بنا کر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے مطابق دمشق حکومت کے دستوں، اسلامک اسٹیٹ اور دیگر باغی گروپوں نے ملک کے کئی علاقوں کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور ایسے شہروں کے محصورین کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ بنتی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان کی جانب سے دمشق حکومت سے امداد پہنچانے کی پچھتر فیصد درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔