1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

مصنوعی پھیپھڑے بنانے کی کوشش

امریکہ میں سائنس دانوں کی دو ٹیموں نے دو علیحدہ علیحدہ تجربات کے ذریعے مصنوعی پھیھپڑے بنانے کی سمت میں پیش رفت کی ہے، جس سے طب کی دنیا میں متعدد تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

default

امکان ہے کہ اس پیش رفت سے پھیپھڑوں سے متعلق نئی دوائیں آزمانے اور انسانوں میں مصنوعی پھیپھڑوں کی پیوندکاری ممکن ہوسکے گی۔

پہلا تجربہ یالے یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کیا جنہوں نے مصنوعی پھیپھڑوں کے ٹشوز کی ایک چوہے میں پیوندکاری کی۔ سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن کے بعد چوہا معمول کے مطابق سانس لیتا رہا اور اس کے خون کو پھیپھڑوں کے ذریعے تازہ آکسیجن ملتی رہی۔

دوسرا تجربہ ہارورڈ یونیورسٹی میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے کیا جنہوں نے انسانی ٹشوز اور synthetic اجزا سے مصنوعی پھیپھڑے بنائے اور پھر اس پر ماحولیاتی اثرات اور نئی ادویات کے اثرات کا مشاہدہ کیا۔ ان دونوں تحقیقات کو ٹشو انجینیرنگ کے شعبے میں انقلاب قرار دیا جارہا ہے۔

Mäuse in einem Laufrad

یہ تجربہ چوہوں پر کیا گیا

یالے یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم کی رکن ڈاکٹر لاؤرا نکلسن کے بقول یہ کاوش انسانوں کے بشمول بڑے جانداروں کے لئے مکمل پھیپھڑے بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔ دوسری طرف ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم اور بائیولوجیکلی انسپائرڈ انجینیرنگ کے انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ڈونلڈ انگبیر کی تحقیق کا مرکز خاصا مختلف تھا۔

ان کی کاوش یہ تھی کہ پھیپھڑوں کے علاج کو کس طرح مزید آسان بنایا جائے۔ انہوں نے انسانی ٹشوز اور synthetic اجزاء سے ایک چھوٹا آلہ تیار کیا جو وہی کام کرتا ہے جو جانداروں کے جسم میں پھیپھڑے کرتے ہیں۔ اس آلے کے تین حصے بنائے گئے تھے، ایک میں پھیپھڑوں کے ٹشوز، دوسرے میں نفوذ پذیر جالی اور تیسرے میں ہوا کے گزر کے لئے خانے بنائے گئے تھے۔

سائنس دانوں نے پھیپھڑوں کے ٹشوز والے حصے پر بیکٹیریا ڈال کر اس سے خون کے سفید خلیے گزارے اور مدافعتی نظام کے عمل کا مشاہدہ کیا۔ سائنس دانوں کی خوشی کی انتہا نہیں رہی جب خون کے سفید خلیوں نے ہوا کے گزر کے لئے بنائے گئے خانوں میں بیکٹیریا پر حملہ آور ہوکر اسے ختم کردیا۔ سائنس دانوں کی یہ دونوں ٹیمیں اپنی حالیہ کامیابیوں کو بنیاد بناکر تحقیق جاری رکھی ہوئی ہیں اور مزید پیش رفت کی امید کر رہی ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM