1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

مصنوعی طریقے سے انسانی دودھ پیدا کرنے کی کوشش

چین میں سائنس دانوں نے گائے کے خلیے میں انسانی خلیے کے دو ایسے جُز شامل کرکے اس کے دودھ میں وہ توانائی پیدا کرنے کا کارنامہ سرانجام دے دیا جو اب سے پہلے محض انسانی دودھ میں پائی جاتی تھی۔

default

بیجنگ میں چائینیز ایگریکلچرل یونیورسٹی سے وابستہ نِنگ لی کے بقول گائے کے خلیے میں لائیسوزائم نامی پروٹین داخل کیا گیا ہے۔ یہ پروٹین انسانی دودھ میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جس میں بھرپور غذائیت اور توانائی پائی جاتی ہے۔ اس منصوبے پر تحقیق کرنے والے دستے کے سربراہ نِنگ لی کے بقول اس دودھ کے استعمال سے بچوں میں غذائیت کی کمی کو باآسانی پورا کیا جاسکے گا۔

نِنگ لی اور ان کے ساتھیوں کی کوشش ہے کہ جانچ پڑتال کے بعد تین سال کے اندر اندر اس دودھ کو صارفین کے لیے پیش کیا جاسکے۔

اسی طرح جنوب امریکی ملک ارجنٹائن میں بھی سائنس دان اسی کوشش میں ہیں کہ کسی طرح گائے کے دودھ میں انسانی دودھ جیسی توانائی پیدا کی جاسکے۔ بیونس آئرس میں ایگرو بزنس ٹیکنالوجی کے انسٹیٹیوٹ سے وابستہ محققین نے ایک کلون شدہ بچھڑے میں دو انسانی خلیے متعارف کروائے ہیں جو دو ایسے پروٹین کی پیداوار کا موجب بنیں گے جو انسانی دودھ میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پروٹین لیکٹوفیرن اور لائسوزائم ہیں۔ یہ دونوں پروٹین شیر خوار بچوں کو بیکٹیریا اور وائرس کے خلاف نہایت مؤثر حفاظت فراہم کرتے ہیں۔

Milchskandal in China

روزیٹا نامی یہ بچھیا 6 اپریل کو پیدا ہوئی تھی اور دو سال بعد دودھ دینے کے قابل ہوگی۔ اگرچہ ارجنٹائن میں روزیٹا کے بڑے ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے مگر چونکہ چینی سائنس دان یہ کام کرچکے ہیں لہذا اب بحث کا دائرہ اس دودھ کے محفوظ ہونے تک پھیل چکا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی ایلزبتھ میگا کا کہنا ہے کہ انسانی دودھ میں گائے یا بکری کے دودھ کے مقابلے میں 16 سو گنا زیادہ لائسوزائم ہوتے ہیں۔ میگا کا کہنا ہے کہ بہت سے تجربات کی روشنی میں یہ ثابت بھی ہوچکا ہے کہ ایسے بچوں کا مدافعتی نظام زیادہ مضبوط ہوتا ہے جنہوں نے ماں کا دودھ پیا ہو۔

مصنوعی طریقے سے انسانی دودھ کی پیداوار سے متعلق میگا نے بتایا کہ اب تک اس دودھ کو انسانی استعمال میں لاکر آزمایا نہیں گیا ہے لہذا فی الحال اس کے محفوظ ہونے سے متعلق کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM