1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

مصنوعی جلد کی تیاری میں مثبت پیش رفت

جرمنی میں سائنسدانوں نے ایک ایسی مشین کی تیاری میں کامیابی حاصل کی ہے جو مصنوعی جلد کی پروڈکشن میں معاون ثابت ہو گی۔ اس مشین سے مصنوعی جلد تیار کرنے کی اجازت صحت سے متعلق اعلیٰ یورپی ادارے نے دے دی ہے۔

default

جرمن شہر اشٹٹ گارٹ میں قائم فراؤن ہوفر انسٹیٹیوٹ فار مینو فیکچرنگ انجینئرنگ اینڈ  آٹو میشن نے ایک ایسی مشین تشکیل دی ہے جو مصنوعی جلد کی تیاری میں معاون ثابت ہو گی۔ نئی مشین سے جلد کے خلیوں(Cells)  پر مشتمل رابطہ کار ریشوں یا ٹِشوز (Tissues) کی  تیاری  کے علاوہ جِلد کی رنگت کی وجہ بننے والے خلیوں (Pigment cells) کی تیاری میں بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

مصنوعی جلد تیار کرنے والی مشین خاصی بڑی ہے۔ اس کی لمبائی سات میٹر اور چوڑائی تین میٹر ہے۔ مشین کی اونچائی بھی تین میٹر کے قریب ہے۔ مشین کے اندر مختلف امور کی تکمیل کے لیے روبوٹ کے بازو نصب ہیں۔  انسانوں کے لیے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل آلات کی منظوری دینے والے یورپی ادارے نے مصنوعی جلد تیار کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اب آزمائشی دور میں جانور کی جلد کی تیاری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

Hautkrebs

جلدی سرطان انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے

اس وقت نوزائیدہ لڑکوں کے ختنوں سے حاصل ہونے والی جلد سے انسانی جلد کے خلیوں کی آزمائشی تیاری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اشٹٹ گارٹ میں قائم اس  ادارے کے ریسرچ انجینئر  آندریاس ٹراؤبے (Andreas Traube) کا کہنا ہے کہ  مشین سے حاصل ہونے والے سابقہ نمونے کم کارگزار تھے۔ ٹراؤبے کے مطابق مصنوعی جلد کی پروڈکشن میں سردست اسٹیم سیل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ٹراؤبے نے یہ بھی واضح کیا   کہ مصنوعی جلد کے لیے سیلز یا خلیوں کی تیاری ایک Source  یا ذریعے سے کی جا رہی ہے اور اس باعث خلیوں میں ہم آہنگی کا فقدان نہیں ہے۔ ریسرچ ادارے میں مصنوعی جلد کے نمونے کے لیے 3 سے 10 ملین سیلز تک کا حصول ممکن ہے۔ کم سے کم اصلی سیلز کو حاصل کرنے کے بعد ان کے لیے مصنوعی حرارت (Incubation) سے ایسے موافق حالات پیدا کیے جاتے ہیں جو افزائش کے لیے حوصلہ افزاء ہوتے ہیں۔ اس طرح اصل جیسے خلیوں کی تشکیل کا عمل کامیابی سے مکمل کیا جاتا ہے۔

ان حاصل شدہ سیلز کو ایک  ایک سینٹی میٹر قطر کی ٹیسٹ ٹیوب میں پہلے سے رکھی  گئی کولیگن پر رکھ دیا جاتا ہے۔ کولیگن وہ پروٹین ہوتی ہے جو جانوروں کے پٹھوں سے حاصل کی جاتی ہے اور اس کو مزید گرم کریں تو جیلاٹین حاصل ہوتی ہے۔  یہ خلیے کولیگن کی سطح پر تقریباً 6 ہفتے رہنے کے بعد افزائش پاتے ہیں۔ جانوروں کی پروٹین اور خلیوں کے درمیان مسلسل ربط و اتصال افزائش کا سبب بنتا ہے۔ اس باعث ایک 5 ملی میٹر جتنی موٹی  جلد تیار ہو جاتی ہے۔ اس جلد کا اصلی جلد کے ساتھ تقابلی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

ریسرچ انجینئر آندریاس ٹراؤبے کے مطابق جلد تیار کرنے والی مشین اندر سے ہمہ وقت جراثیم سے پاک رکھی جاتی ہے۔ اس کے اندر موجود انکیوبیشن چیمبرز کا درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے۔ اس چیمبر میں ایک وقت میں 500 چھوٹے چھوٹے ٹرے رکھے جا سکتے ہیں جبکہ ہر ٹرے میں 24 ٹیسٹ ٹیوبز رکھنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ ٹراؤبے کے مطابق اگلے آٹھ ماہ کے دوران مصنوعی جلد کی تیاری کی حتمی منظوری حاصل ہونے کے بعد کمرشل بنیادوں پر پروڈکشن کا آغاز کیا جا سکے گا۔

16.11.2011 DW-TV Fit und gesund Hautcheck bei weissem Hautkrebs

جلدی سرطان میں مبتلا ایک مریض

بعض دوا ساز اور طبی محققین کا خیال ہے کہ ابھی تک جلد تیار کرنے کا سلسلہ بہت ہی محدود ہے۔ جتنی جلدی اس کا کمرشل یا بڑے پیمانے پر سلسلہ شروع نہیں کیا جاتا تب تک اصل جلد اور مصنوعی جلد کے اندرونی متحرک خلیوں پر بامعنی تحقیق کا عمل مکمل نہیں کیا جا سکے گا۔ محققین کے خیال میں مصنوعی جلد، جلدی  سرطان کے علاوہ  Pigment cells کی خرابی کے ساتھ ساتھ  الرجی اور پھپھوندی کے باعث خراب ہونے والی جلد کے متبادل کے طور پر استعمال کی جا سکے گی۔

فراؤن ہوفر سوسائٹی جرمنی کے بلند پایہ سائنسی تحقیقی اداروں میں سے ایک ہے۔ سارے جرمنی میں اس کی ساٹھ کے قریب مختلف ادارے ہیں اور ان میں اٹھارہ سو سائنسدان ریسرچ پروجیکٹس میں مصروف ہیں۔ یہ سوسائٹی اطلاقی تحقیق یا اپلائیڈ ریسرچ کو فوقیت دیتی ہے۔ اس ادارے کی بنیاد جرمن سائنس دان اور انجینئر یوزف فان فراؤن ہوفر نے سن 1949 میں رکھی تھی۔ اس وقت اس کے سات مراکز امریکہ اور تین ایشیا  میں کام کر رہے ہیں۔ کئی تکنیکی  اختراعات اور  سائنسی ایجادات اس سوسائٹی کی مرہون منت ہیں۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس