1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصطفیٰ کمال کی ’پاک سرزمین پارٹی‘ کا قیام

سابق میئر کراچی سید مصطفٰی کمال سمیت ایم کیو ایم سے منحرف ہونے والے سات رہنماوں نے نئی سیاسی جماعت بنالی اور اس جماعت ’پاک سرزمین پارٹی‘ کے قیام کا اعلان کردیا۔

یو اعلان کراچی کے ایک پوش علاقے کلفٹن میں واقع ایئر کنڈیشنڈ شادی ہال میں منعقدہ تقریب میں کیا گیا۔ وسیم آفتاب نے تقریب کے آغاز پر ابتدائی کلمات میں کہا،’’ہم پاکستان کے ہر شہری کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم بلا تفریق ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ نوجوانوں کی امید اور امنگوں کے لیے ہم پیغام دیتے ہیں کہ مایوس نہیں ہونا اور نہ ہی مایوس ہونے دینا۔ آنے والا کل عوام سے اور وہ صبح عوام سے ہی آئے گی جس کا خواب دیکھا گیا ہے ہم لوگوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی زمین بانجھ نہیں ہوئی آج بھی مائیں وہ بیٹے جن رہی ہیں جو ملک کی آن بان شان پر جان قربان کررہے ہیں۔‘‘

مصطفٰی کمال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیس دن پہلے جس تنظیم کی بنیاد رکھی گئی اور جن لوگوں نے اس کام کا آغاز کیا ہے وہ یاد رکھیں کہ وہ کسی کی طاقت یا حیثیت کو چھیننے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا،’’ ہم سب وہ بت شکن لوگ ہیں جن کے پاس کسی نہ کسی صورت میں طاقت تھی مگر ہم نے اسے جوتے کی نوک
پر رکھا کیونکہ ہم طاقت کے باوجود عوام کی خدمت نہیں کرپا رہے تھے اللہ پاک جس کو سرخرو کرنا چاہے اسے ہدایت دیتا ہے اور اس نے ہمیں بھی ہدایت دی. ہم نے خود کو عوام کی خدمت کے راستے پر ڈال دیا ہے اس شہر کے لوگ گواہ ہیں کہ ہم کو کچھ کرنے کا اختیار ملا تو چار ساڑے چار سال بغیر رنگ و نسل اور ذات پات کے امتیاز کے عوام کی خدمت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

Pakistan Karachi Mustafa Kamal und Anis Qaimkhanni

مصطفیٰ کمال قائم خانی، افتخار عالم اور انیس ایڈووکیٹ کے ساتھ

عشق ٹوٹا تو استخارہ کیا اور پھر عشق ہی دوبارہ کیا اور اس بار بھی عشق عوام سے انکی خدمت کرکے کریں گے۔ ملک میں نظام تباہ حال ہے مگر پاکستانی ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں مذہب کے نام پر قومیتوں کے نام پر اور سیاسی بنیادوں پر بھی تقسیم ہیں اور ہر کوئی اس بات کا پرچار کررہا ہے کہ صرف وہی صحیح ہے۔ باقی نہ اچھے پاکستانی اور نہ اچھے مسلمان ہیں۔ انڈیا ملک سے باہر صرف انڈین ہیں امریکی صرف امریکی اور برطانوی صرف برطانوی ہیں مگر بہت افسوس ہے پاکستانی ملک سے باہر جاکر بھی منقسم ہیں۔ الگ الگ گروپوں میں تقسیم ہیں ہم اس ملک میں لوگوں کے دلوں کو جوڑنے آئے ہیں ہم ایک اور تقسیم نہیں چاہتے ملک میں ملک کے باہر جہاں کہیں سے بھی فون کال آئی ہے ان سے کہا کہ سب سے پہلے سیاسی مخالفین سے محبت اور ان کی عزت کرنا ہوگی سب کی بات سننے کے بعد دلائل سے اپنی بات کرنا سیکھیں۔ اسی لیے ہم نے اپنی جماعت کا جھنڈا ہی نہیں بنایا کیونکہ پارٹی کا جھنڈا ہی توفساد کی جڑ ہے اور اسی سے تو نفرت کا آغاز ہوتا ہے اگر الیکشن کمیشن کو ضرورت ہے تو بنادیں گے مگر اس کے دفاتر میں نہیں لگائیں گے کارکنوں کے
ہاتھوں میں نہیں دیں گے صرف پاکستان کا جھنڈا ہی ہاتھوں میں ہوگا۔ کونسا آئین اور قانون مجھے سبز ہلالی پرچم سینے پر سجانے اور ہاتھ میں اٹھانے سے روک سکتا ہے پاکستان جتنے ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے اسے تو فرشتے بھی نہیں چلا سکتے سڑکوں، پارکوں اور پلوں کو جوڑنے سے پہلے پاکستانیوں کے دلوں کو جوڑنا ہے۔‘‘

مصطفٰی کمال کا کہنا ہے کہ پہلی پریس کانفرنس کے بعد ملک کے دانشور اُن کے پاس آئے اور آج ملک کے بہت سے قابل افراد پر مشتمل ٹیم پارٹی کا منشور
بنارہی ہے اور منشور کا اعلان بھی ایسی ہی تقریب میں کیا جائے گا۔ منشور کے بنیادی نکات بیان کرتے ہوئے مصطفٰی کمال کا کہنا تھا کہ بنیادی مسائل کے حل کیلئے عام پاکستانی کی رائے کو اولیت دی جائے گی کیونکہ دورسے بیٹھ کر گلی کوچوں میں دودھ کی نہریں بہا دیں اور سونے کی اینٹیں لگادیں۔ عام آدمی اسے قبول نہیں کرے گا تو ملک کیسے چلایا جاسکتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اقتدار نچلی سطح پر منتقل ہوچکا ہے اگر اس ملک کو ترقی دینی ہے تو یہاں بھی آئین کے آرٹیکل ایک سو اڑتالیس کے تحت اقتدار نچلی سطح پر منتقل کرنا ہے اور نئے صوبوں کے قیام سے قبل یہ کام کرنا ہوگا چارصوبے ہیں بیس صوبے بنالیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

Pakistan Karachi Mustafa Kamal und Anis Qaimkhanni

’پاکستان کی زمین بانجھ نہیں ہوئی‘



کمال کے مطابق پاکستان میں عجیب نظام رائج ہے کہ پہلے ایک آدمی کو سارا اختیار اور پیسہ دے دو اور
پھر جب وہ کھا جائے تو اسکے پیچھے نیب کو لگادو۔ گاؤں سے شہروں کی طرف ہجرت ہورہی ہے لہذا منشور کا دوسرا نقطہ ہے کہ نیشنل اربن پلان بنایا جائے کیونکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ستر فیصد
آبادی دیہاتوں سے شہروں کی طرف آرہی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا،’’تیئس مارچ پاکستان کی بنیاد رکھنے کا دن ہے اور آج ہم اس ملک میں وطن
پرستی کی بنیاد رکھ رہے ہیں آئندہ برس سے وطن کی بنیاد اور وطن پرستی کی بنیاد رکھنے کا دن ایک ساتھ منایا جائے گا۔‘‘

تجزیہ کاروں کی رائے میں مصطفٰی کمال نے آج بھی کوئی نئی بات نہیں کی وہ یہ تمام باتیں تین مارچ کی پریس کانفرنس میں کرچکے ہیں کراچی سمیت ملک
بھر میں لوگ یہ تمام باتیں گذشتہ بیس روز سے سن رہے ہیں مگر ان باتوں کو کتنی پذیرائی ملتی ہے اس کے لیے وقت درکار ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں یوم پاکستان کے سلسلے میں مزار قائد پر حاضری دی۔ میڈیا سے گفتگو میں انکا کہنا تھا کہ
’’قوم کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے عوام کو منظم اور متحد کرنے کی ضرورت ہے۔ اتحاد سے ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے اورانتشار کے لیے کام کرنے والے یوم پاکستان کی نفی کررہے ہیں ایم کیو ایم پرکراچی کے عوام نے بلدیاتی انتخابات میں اعتماد کا اظہار کیا ہے ہمیں
اختیار دیا جائے اور کام کرنے دیا جائے۔‘‘

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں ’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایم کیو ایم پہلے بھی منحرف ہونے والوں کو ناکام کرچکی ہے اس بار
بھی ایسا ہی ہونے جارہا ہے کیونکہ ایم کیو ایم کو لوگ الطاف حسین کے نام پر ووٹ دیتے ہیں اور ایم کیو ایم الطاف حسین کا دوسرا نام ہے نہ تو ایم
کیو ایم میں الطاف حسین کے بغیر پارٹی کا فی الحال تصور موجود ہے اور نہ ہی اس کے حامی اور ووٹرز میں ایسا کوئی خیال پایا جاتا ہے۔‘‘



DW.COM