1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصطفیٰ کمال کی دھواں دھار پریس کانفرنس، نئی پارٹی بنانے کا اعلان

کراچی کے سابق ناظم مصطفیٰ کمال نے ایک دھواں دھار پریس کانفرنس میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا بھی اعلان کر دیا۔

پاکستان کے جنوبی شہر اور تجارتی مرکز کراچی کے سابق ناظم اعلیٰ مصطفیٰ کمال طویل عرصے تک سیاسی منظر نامے سے غائب رہنے کے بعد واپس کراچی پہنچے ہیں۔ آج انہوں نے ایک دھواں دھار پریس کانفرنس میں اچانک ایم کیو ایم چھوڑ کر ملک سے باہر چلے جانے کی وجوہات بیان کیں۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے سابق رکن انیس قائم خوانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے۔ ان کا کہنا تھا، ’’کراچی شہر کا بیڑا غرق ایک دن میں نہیں ہوا، حکومتیں، ادارے، اسٹیبلشمنٹ سب یہ بات جانتے ہیں کہ الطاف حسین کے ’را’ کے ساتھ تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران فاروق کے قتل کیس میں اسکاٹ لینڈ یارڈ الطاف صاحب کے گھر سے ٹرک بھر کر سامان لے گئی، اسکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف صاحب کے تین دن تک مسلسل انٹرویوز کیے۔‘‘ مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین، انور اور طارق میر سے بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را’ کے ساتھ روابط ہونے کا پوچھا، انہوں نے پہلے اس بات کی نفی کی لیکن جب اسکاٹ لینڈ یارڈ نے دستاویزی ثبوت فراہم کیے تو پھر الطاف حسین نے ’را’ سے مدد لینے کا اعتراف کر لیا۔ پریس کانفرنس کے دوران ایک موقع پر مصطفیٰ کمال آبدیدہ بھی ہو گئے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد الطاف حسین نے پارٹی کارکنان کو خطاب کے لیے اکٹھا کیا، اس وقت وہ نشے کی حالت میں تھے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کے مشوروں پر عمل نہیں کیا۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میڈیا کو بھی یاد نہیں ہو گا کہ الطاف حسین نے کتنی مرتبہ استعفیٰ دیا، جتنی مرتبہ بھی ایم کیو ایم حکومت سے الگ ہو کر واپس حکومت میں آئی، اس کی ساکھ متاثر ہوئی۔

سابق ناظم کا تعلق کراچی کی سب سے بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ سے تھا۔ اگست 2013ء میں وہ اچانک ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ملک چھوڑ کر چلے جانے کے بعد ایم کیو ایم نے انہیں سینیٹ کی سیٹ چھوڑنے کا کہہ دیا تھا۔ پاکستان چھوڑنے کے حوالے سے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ فیصلہ بہت مشکل تھا، ’’میں پارٹی کا سسٹم جانتا تھا کہ پارٹی چھوڑی تو جان کوخطرہ ہو سکتا ہے۔‘‘ اس حوالے سے مصطفیٰ کمال نے مزید کہا، ’مجھے پتہ تھا کہ میں ملک میں مزید نہیں رہ سکتا، الطاف حسین کے بھارتی ملازمین مجھے نہیں چھوڑیں گے‘۔

مصطفیٰ کمال نے کہا، ’’ہم نے الطاف حسین کے لیے سب کچھ قربان کر دیا لیکن الطاف کو اپنے کارکنان کی کوئی فکر نہیں تھی۔ پارٹی کارکنان کی ہلاکتیں پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔‘‘ انہوں نے کراچی میں اس پریس کانفرنس میں ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کا بھی اعلان کر دیا تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی اس پارٹی کا کوئی نام نہیں رکھا گیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی فیصل رضا عابدی نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ ایم کیو ایم کے خلاف مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس چوہدری نثارکا ترپ کا پتا ہے۔ اس حوالے سے آج شب ایم کیو ایم لندن اور پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔ اس پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے رہنما ندیم نصرت نے کہا، ’’عوام ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے ساتھ ہیں ہمیں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں، ایم کیو ایم کو تقسیم کرنے کی یہ کوشش نئی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے ایم کیو ایم کے کارکنان سے پر امن رہنے کی بھی اپیل کی۔

DW.COM