1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصطفٰی کمال اور انیس احمد پر لگے الزامات کا جواب کون دے گا؟

متحدہ قومی موومنٹ کے منحرف رہنماؤں نے الطاف حسین پر جو الزامات عائد کیے ہیں وہ پہلے بھی زبان زد عام تھے لیکن مہاجروں کی بقاء کی بات کرنے والے ان دونوں رہنماؤں پر بھی سنگین الزامات ہیں، جن کا جواب ابھی آنا باقی ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے مصطفٰی کمال اور انیس احمد قائم خانی کی پریس کانفرنس کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے اسٹیبلشمنٹ کا ایم کیو ایم پر ایک اور وار قرار دیا ہے اور سوال کیا ہے کہ مصطفٰی کمال بتائیں کہ انہیں بطور سٹی ناظم جو تین سو ارب روپے کراچی کے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرنے کے لئے ملے تھے ان میں سے کتنے پیسے لندن بھیجے ہیں ؟

سید مصطفٰی کمال نوے کی دہائی سے ایم کیو ایم سے وا بستہ تھے اور انہیں پارٹی کے مقتول چئیرمین عظیم احمد طارق اپنا بھانجا کہتے تھے۔ مہاجر قومی موومنٹ کے چئیرمین آفاق احمد جو خود بھی ایم کیو ایم کے پہلے منحرف رہنما ہیں، کہتے ہیں کہ قتل کی رات مصطفٰی کمال عظیم احمد طارق کے گھر پر بطور محافظ تعینات تھے اور چاروں طرف سے بند گھر کی پہلی منزل پر عظیم طارق کا قتل ہوا تو کیسے ممکن ہے کہ مصطفٰی کمال کو قاتلوں کا علم نہ ہو ؟

دوسری جانب اجمل پہاڑی نے بھی گرفتاری کے بعد دوران تفتیش انکشاف کیا تھا کہ دو ہزار نو میں عاشورہ محرم کے جلوس میں ہونے والے بم دھماکے میں اس وقت کے سٹی ناظم مصطفٰی کمال ’ملوث‘ تھے۔

اس ایم کیو ایم کو درپیش صورت حال پر سینئر صحافی مظہر عباس کہتے ہیں کہ مصطفٰی کمال اور انیس قائم خانی کو عوام میں اپنی پذیرائی ثابت کرنا ہوگی کیونکہ بطور سٹی ناظم ان کی شہرت دراصل ایم کیو ایم کی مقبولیت ہے۔ اپریل میں ایم کیو ایم کی جانب سے خالی کردہ دو نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوگا، جس سے پتہ چلے گا کہ دونوں منحرف رہنما ایم کیو ایم کے ووٹ بینک کو کس حد تک متاثر کر سکتے ہیں؟

منحرف ہونے والے انیس احمد قائم خانی نہ صرف ڈاکٹر عاصم کے خلاف مبینہ دہشت گردوں کا علاج کرنے کے مقدمے کے مفرور ملزم ہیں بلکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت دو مرتبہ ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرچکی ہے۔ اس کے علاوہ دو ہزار بارہ میں بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کا الزام بھی انیس احمد قائم خانی پر ہے۔ فیکٹری مالکان نے چند ماہ قبل ہی جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم کو دیے گئے بیان میں انیس احمد قائم خانی کو بھی آتشزدگی میں ملوث قرار دیا تھا۔

ان تمام الزامات کے باوجود انیس احمد قائم خانی نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ جو لوگ پولیس کو مطلوب ہوتے ہیں، وہ باہر فرار ہوتے ہیں، واپس نہیں آتے اور وہ کسی بھی مقدمہ میں مطلوب نہیں ہیں، ’’میں ایم کیو ایم کا کنوینئر تھا فیکٹریوں میں آگ لگانے نہیں جاتا تھا۔‘‘

ڈان گروپ سے وابستہ صحافی مبشر زیدی کہتے ہیں کہ دونوں رہنماؤں کی اچانک واپسی اور پر ہجوم پریس کانفرنس میں نئی پارٹی بنانے کا اعلان کرنا اسٹیبلشمنٹ کا پرانا طریقہ کار ہے، ’’پیپلز پارٹی توڑ کر پیٹریاٹ بنائی گئی، نواز لیگ توڑ کر ق لیگ اور ایم کیو ایم کو توڑ کر حقیقی بنائی گئی مگر خاطر خواہ نتائج نہیں مل پائے اور ایم کیو ایم تو ہے ہی ردعمل کی جماعت اسطرح کی کوشش نے ہمیشہ ایم کیو ایم نقصان کی بجائے فائدہ پہنچایا ہے۔‘‘

ان کے مطابق آفاق احمد وہ رہنما تھے جنہیں الطاف حسین اپنا جانشین کہتے تھے مگر مہاجر قومی موومنٹ بنے ہوئے چوبیس سال گزر گئے آفاق احمد کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکے، مصطفٰی کمال کے مقابلے میں انیس احمد قائم خانی ایم کیو ایم کو زیادہ نقصان پہنچاسکتے ہیں کیونکہ ان کا پارٹی میں نچلی سطح پر کارکنوں سے رابطہ تھا اور وہ ایم کیو ایم کے کارکنان کی سوچ کو بہتر سمجھتے ہیں۔

مصطفٰی کمال نے دوبارہ میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان کو عوام کا غیر متوقع رسپانس ملا ہے اور پورے ملک سے لوگ انہیں فون کر رہے ہیں اور وہ معذرت خواہ ہیں کہ فون کالیں ریسیو نہیں کر پائے، ’’ہمارا پیغام سب کے لئے ہے، جو چاہے ہمارے ساتھ آجائے۔‘‘

تجزیہ کاروں کی رائے میں ایم کیو ایم کے خلاف منحرف رہنماؤں نے پہلی بار پریس کانفرنس نہیں کی۔ عظیم طارق، آفاق احمد اور عامر خان پہلے یہ کام کر چکے ہیں مگر دونوں رہنما، جس انداز میں پاکستان واپس آئے ہیں۔ ڈیفنس میں نوتعمیر شدہ بنگلے کے لئے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات بھی بہت سے سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔