1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر کے ’سرکاری صحافی‘ ساکھ کی بحالی میں مصروف

مصر کے سرکاری میڈیا میں طویل عرصے تک حکومتی دباؤ کے تحت کام کرنے والے صحافی اب حسنی مبارک کے چلے جانے کے بعد اپنی ساکھ کی بحالی میں مصروف ہوگئے ہیں۔

default

سماجی میل ملاپ کی ویب سائٹس ٹویئٹر اور فیس بک کے ذریعے مصر کا نوجوان حلقہ نئی سماجی آزادی کا لطف اٹھا رہا ہے۔ اس کے برعکس روایتی قدامت پسند میڈیا سے وابستہ افراد کو اپنا سابقہ مقام برقرار رکھنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔

سرکاری ٹیلی وژن نیل نیوز اور سرکاری اخبار ال احرام سے وابستہ صحافی بالخصوص مشکل میں گھر گئے ہیں۔ ملکی آبادی کی اکثریت کو اب بین الاقوامی میڈیا تک رسائی حاصل ہے، جو حکومت مظالف مظاہروں کی براہ راست کوریج فراہم کر رہا تھا۔

Ägypten Kairo Tag nach Rücktritt Mubarak Presse

ایک مصری شہری مظاہرین کے جشن کی سرخی سے سجا اخبار دکھاتے ہوئے

ایک وقت میں جب الجزیرہ اور بی بی سی جیسے ادارے مصر بھر میں جاری مظاہروں کی شدت سے متعلق رپورٹیں پیش کر رہے تھے اسی دوران نیل نیوز اور ال احرام سے وابستہ صحافی ’سب ٹھیک ہے‘ کی اطلاعات فراہم کر رہے تھے۔ نیل نیوز کی 41 سالہ اینکر سہا ال نقش کا کہنا ہے کہ قاہرہ حکومت انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتی تھی۔

نقش سمیت ان کی بعض دیگر ساتھیوں نے اب نیل نیوز چھوڑ دیا ہے۔ نقش کا کہنا ہے کہ ان سرکاری اداروں میں کام کرنے والا عملہ اب تبدیلی کے عمل کا حصہ بن رہا ہے۔

مصر میں حسنی مبارک کے استعٰفے کے ساتھ ہی جب یہ تاثر عام ہوا کہ ملکی فوج عوامی تحریک کو نہیں دبائے گی تو مقامی میڈیا کے رویے میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ تاہم مصری عوام کی اکثریت میں سرکاری میڈیا اپنی ساکھ بحال نہ کرسکی، جن کے نزدیک سرکاری میڈیا سے وابستہ افراد ’جھوٹے‘ ہیں۔ اس چھاپ کو مٹانے کے لیے یہ صحافی اب سرگرم ہوگئے ہیں۔

Mubarak Rücktritt Suleimann TV Ansprache

مصری سرکاری ٹیلی وژن پر نائب صدر عمر سلیمان کا خطاب

اس کی ایک مثال Al-Gomhouria اخبار ہے۔ مبارک کے حامی سمجھے جانے والے اس اخبار سے وابستہ درجنوں صحافی اب اس اخبار کے ایڈیٹر اور مینیجر کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔ سہا ال نقش جیسے مصری صحافی جو بظاہر مجبورًا سابق صدر مبارک کی ’شاندار قیادت کے گن گاتے تھے‘ اب اس میڈیا کی آزادی کی تحریک کے رکن بن گئے ہیں۔

نقش کا کہنا ہے کہ اگرچہ مبارک اب اقتدار میں نہیں رہے تاہم ان کے سابق خوشامدی اب بھی سرکای میڈیا میں طاقتور پوزیشن میں ہیں، جن سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ ملکی سطح پر ریڈیو اور ٹیلی وژن کے صحافیوں کی ایک آزاد و متحد یونین کے قیام کو اس مسئلے کا ایک حل سمجھتی ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM