1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر کے انقلاب کے پانچ سال

پانچ سال قبل پیر 25 جنوری کو مصری دارالحکومت قاہرہ کے التحریر اسکوائر میں ہزاروں مصری باشندوں نے جمع ہو کر حکومت مخالفت کا جس شدت سے مظاہرہ کیا تھا وہ محض ڈھائی ہفتوں بعد ہی ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا سبب بنا۔

آزادی کا نعرہ لگانے والے مظاہرین کے رات دن جاری رہنے والے احتجاج کے نتیجے میں اُس وقت کے مطلق العنان صدر حُسنی مبارک کا تختہ اُلٹ گیا۔ مصر میں آنے والے سیاسی انقلاب کے پانچ سال پورے ہونے پر موجودہ حکمران اُن تمام عناصر پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں جن پر اُنہیں شبہ ہے کہ وہ جمہوریت کے لیے سرکردہ ہیں یا جن کا تعلق کالعدم اخوان المسلمون سے ہے۔ موجودہ حکومت ہر قیمت پر نئے مظاہروں کے انعقاد کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ قاہرہ کا التحریر اسکوائراب بھی عوامی مزاحمت کی علامت بنا ہوا ہے۔

Ägypten Tahrir-Platz am 5. Jahrestag der Revolution

قاہرہ کا التحریر اسکوائر

کریم فرید تب محض 19 سال کا تھا جب 25 جنوری 2011 ء کو اُس نے اچانک دیکھا کہ التحریر اسکوائرحقیقت میں آزادی کا میدان بنتا دکھائی دیا۔ لگ بھگ 10 ہزار مظاہرین اُس روز التحریر میدان میں جمع ہوئے جن میں کریم فرید بھی شامل تھا۔ ’’پہلی شام ہی سے میں مظاہروں میں شریک رہا۔ یہ میرا ایک برملا فیصلہ تھا۔ مجھے اللہ نے دو آنکھیں دی ہیں اور میں ان سے اپنے دیس کے انسانوں کے مصائب دیکھ رہا تھا۔ ایک نوجوان کی حیثیت سے میری خواہش بہتر امید تھی۔‘‘ یہ الفاظ ہیں کریم فرید کے۔

25 جنوری کی رات سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر التحریر اسکوائر کو مظاہرین سے خالی کرانے کے لیے لاٹھیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا اور اُن کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔

فرید مزید کہتا ہے،’’اُس وقت میں نے التحریر اسکوائر میں جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا اُس نے میری زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ میری وہاں ملاقات ہر طرح کے مصری باشندوں سے ہوئی۔ لبرل، انقلابی، بائیں بازو کے حامی اور اسلام پسند۔ سب وہاں موجود تھے اور سب مل کر آزادی اور سماجی انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اچانک ایک اُمید کی فضا بن گئی تھی۔‘‘

Ägypten Sicherheitsmaßnahmen am 5. Jahrestag der Revolution

مصری انقلاب کے پانچ سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات

سکیورٹی فورسز نے پہلے روز تو مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور کسی حد تک کامیاب بھی رہی تاہم تین روز بعد یہ مظاہرین پھر سے وہاں جمع ہو گئے۔ اس بار انہوں نے اس جگہ کو اپنے قبضے میں رکھنے کا فیصلہ کیا اور صدر حسنی مبارک کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد ہی التحریر اسکوائر چھوڑا۔

2 فروری کو حکومتی فورسز نے آخری بار مظاہرین کو منتشر کرنے اور احتجاج کا زور توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے گھوڑوں اور اونٹوں تک کا سہارا لیا۔

سن 2011ء میں بڑے عوامی مظاہروں کے بعد تین دہائیوں تک مصر پر حکومت کرنے والے حسنی مبارک کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا تھا، جس کے بعد پہلی مرتبہ محمد مرسی ملک کے منتخب صدر بنے۔ مرسی کو اقتدار کے ایک ہی برس بعد فوج نے برطرف کر دیا تھا اور اب سابقہ فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی مصر کے صدر ہیں۔

DW.COM