1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر کےحالات معمول پر لانے کی کوششیں

حسنی مبارک کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد ملکی فوج نے مصر میں روزمرہ کی زندگی کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں۔

default

اتوار کو سپریم کمانڈ کونسل نے حکومت برطرف اور پارلیمان تحلیل کرتے ہوئے، ملک کا آئین بھی معطل کر دیا۔ اب ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ مظاہرین کی کئی اہم شرائط پر عملدرآمد کرنے کے بعد فوج کی کوشش ہے کہ وہ ملک میں روز مرہ زندگی کو ایک مرتبہ پھر معمول پر لے آئے۔ اس بات کی قوی امید ہے کہ پیر کو مزید مظاہروں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا جائے گا اور ساتھ ہی ایسے عناصر کو سخت نتائج سے خبردار بھی کر دیا جائے گا، جو بدامنی پھیلانے کے مرتکب ہو سکتے ہوں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے مصری فوج کے قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج اس سلسلے میں ایک حکم نامہ جلد ہی جاری کر دے گی۔ فوج نے کہا ہے کہ آئندہ شفاف انتخابات تک وہ حکومت کا کنٹرول سنبھالے رکھے گی۔ ملکی آئین کو معطل کرنے کے بعد نئے انتخابات ترمیم شدہ آئین کے مطابق منعقد کرائے جائیں گے۔

Mideast_Egypt_FTP20110210_173534_XBC103_jpg_748958810022011.jpg_no.jpg

اب بھی متعدد مظاہرین قاہرہ کے التحریر چوک پر جمع ہیں

تاہم فوج نے ابھی تک اس عمل کا کوئی ٹائم فریم نہیں بتایا کہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کب منعقد کرائے جائیں گے۔ فوج کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں صرف اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ عارضی طور پر ملک کا کنٹرول اسی کے ہاتھ میں رہے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ انتقال اقتدار کا عمل چھ ماہ کے دوران مکمل ہوسکتا ہے تاہم ابھی تک کسی مستند ذریعے سے اس مدت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اٹھارہ روز تک جاری رہنے والے عوامی مظاہروں کے نتیجے میں تیس سال سے برسر اقتدار حسنی مبارک گزشتہ جمعہ کو اپنے عہدے سے علیحدہ ہونے پر مجبور ہو گئے تھے تاہم بعد ازاں مظاہرین نے بہتر مراعات کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ مصری عوام غربت، بدعنوانی اور خراب تر معیار زندگی کے خلاف اب بھی اپنا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔

قاہرہ کے التحریر چوک میں، جہاں سے انقلاب شروع ہوا تھا، وہاں اب بھی بہت سے مظاہرین ڈیرہ جمائے بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقصد صرف حسنی مبارک کو اقتدار سے الگ کرنا نہیں تھا بلکہ ان کے مطالبات میں یہ بھی شامل تھا کہ پائیدار اصلاحات کا عمل مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا جائے اور ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ممکن بنایا جائے۔

اگرچہ مصری اپوزیشن اب تک کے فوجی حکومتی اقدامات سے خوش ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، ایمرجنسی ختم کی جائے، فوجی عدالتوں کو غیر فعال بنایا جائے اور آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار کی جائے تاکہ ملک میں سول دور حکومت کا آغاز ہو سکے۔ فوج نے مظاہرین سے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بہتری کے بعد ملک میں نافذ ہنگامی حالت ختم کر دی جائے گی اور ان کے تمام مطالبات ایک ایک کر کے پورے کیے جائیں گے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM