1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر کی عسکری کونسل رعایتیں دینے پر تیار

مصر کی عسکری کونسل نے کہا ہے کہ شہریوں کے خلاف ملٹری مقدموں کے خاتمے اور سیاسی حکومت کو اقتدار کی منتقلی کے لیے واضح نظام الاوقات طے کرنے پر غور کیا جائے گا۔

default

عسکری کونسل پر دباؤ بڑھ رہا ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز نے مصر کی سرکاری نیوز ایجنسی مینا کے حوالے سے بتایا کہ سابق صدر حسنی مبارک کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کو سیاست میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے قوانین بھی متعارف کرائے جائیں گے۔

عسکری کونسل پر جمہوری اصلاحات کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس کونسل کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی قانون کی حیثیت کا مطالعہ کیا جائے گا۔ انسانی حقوق کے کارکن اس قانون کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت پولیس کو گرفتاریوں اور گرفتار شدگان کو حراست میں رکھنے کے لیے کھلے اختیارات دیے گئے ہیں۔

نومبر کے پارلیمانی انتخابات کے لیے قانون میں ترمیم کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے ان تبدیلیوں کے لیے اتوار کی حتمی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔

سیاسی پارٹیاں مبارک کی جماعت کے سابق ارکان کو سیاست سے دُور رکھے جانے کی خواہاں ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آزاد امیدواروں کے طور پر انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔

US-Außenministerin Hillary Clinton

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

مینا کے مطابق عسکری کونسل نے کہا ہے کہ انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کا ایوانِ زیریں آئندہ برس جنوری کے وسط سے کام کرنا شروع کر دے گا۔ ایوانِ بالا چوبیس مارچ کو انت‍خابی نتائج کے اعلان کے بعد کام کرنا شروع کرے گا۔

اُدھر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے مصری حکام پر زور دیا ہے کہ وہ عوام کے حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے مصر کے الحیات ٹیلی وژن کے ساتھ انٹرویو میں اُمید ظاہر کی کہ مصر کی نئی قیادت مختلف سیاسی اور مذہبی نظریات رکھنے والوں کے شہری حق کا احترام کریں گے۔

انہوں نے کہا: ’’آپ ایک ایسا مصر چاہتے ہیں جہاں عوام کو یہ آزادی حاصل ہو کہ وہ لبرل رہیں، قدامت پسند بنیں اور یا ترقی پسند۔ ان کے مخصوص نظریات کچھ بھی ہوں، ان میں ریاست، ریاستی اداروں اور عوام کے حقوق کے لیے احترام ہونا چاہیے۔‘‘

انہوں نے مصر کی عسکری کونسل پر بھی زور دیا کہ وہ مصر عوام سے کیے گئے وعدے نبھائیں۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس