1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر کی سکیورٹی فورسز نے ’غلطی سے‘ سیاحوں کو ہلاک کر دیا

مصر کی پولیس اور افواج نے ملک کے مغربی صحرائی علاقے میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران غلطی سے کم از کم بارہ بے گناہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

مصر کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے اتوار کے روز کی جانے والی اس کارروائی میں میکسیکو سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس واقعے پر ملکی افواج اور پولیس پر زبردست تنقید کی جا رہی ہے اور اس کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اہل کار ’’دہشت گردوں کا پیچھا‘‘ کر رہے تھے اور اس دوران انہوں نے ’’غلطی سے‘‘ چار ایسے ٹرکوں کو نشانہ بنایا جن میں میکسیکو سے تعلق رکھنے والے سیاح موجود تھے۔

وزارت داخلہ نے ہلاک ہونے والوں کی تفصیلات پیش نہیں کیں تاہم بتایا ہے کہ اس واقعے میں بارہ میکسیکنز اور مصری شہری ہلاک اور دس افراد زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہ ’’غیر ملکی سیاحوں‘‘ کے لیے ممنوع تھا۔

میسیکو کی وزارت خارجہ نے کم از کم دو شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ صدر اینریکے پینا نیاٹو نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک بیان میں کہا، ’’میکسیکو اپنے شہریوں کے خلاف اس اس واقعے کی مذمت کرتا ہے اور مصر کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس واقعے کی بھرپور تحقیقات کی جائیں۔‘‘

مصر میں میکسیکو کے سفیر نے دارالحکومت قاہرہ کے مغرب میں دار الفواد ہسپتال جا کر واقعے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔ اطلاعات کے مطابق ان افراد کی حالت مستحکم ہے۔

مصر کا مغربی صحرائی علاقہ سیاحوں کی پسندیدہ جگہوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ قاہرہ کے مضافاتی علاقوں سے شروع ہوکر لیبیا کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ جس علاقے میں یہ واقعہ رونما ہوا وہ صحرا کا کون سا حصہ تھا۔ یہ علاقہ اسلامی عسکریت پسندوں، بہ شمول ’’اسلامک اسٹیٹ‘‘ یا داعش کی پناہ گاہ بھی سمجھا جاتا ہے۔

داعش نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز اس نے مصری سکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن کی مغربی صحرا میں مزاحمت کی، تاہم اس تنظیم نے اس بارے میں مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔

سن دو ہزار تیرہ میں فوج کی جانب سے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے مصر میں اسلام پسندوں کی کارروائیاں اور مظاہرے جاری ہیں۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے داعش اور اس سے منسلک گروہ بھی مصر میں فعال ہو گئے ہیں۔ داعش پہلے ہی عراق اور شام میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور وہاں کئی علاقوں پر اس کا قبضہ ہے۔