1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مصر: ناانصافی کے خلاف بلاگنگ

بہت سے مصری نوجوانوں کے لئے آزادنہ تبادلہ خیال صرف انٹرنیٹ پر ہی ممکن ہے۔ مصر میں روزمرہ زندگی میں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے بہت سے نوجوان سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔

default

ان سائٹس میں فیس بُک اور ٹویٹر سر فہرست ہیں۔ مصر میں تیس برس تک کی عمر کے شہریوں نے آج تک صرف یہی دیکھا ہے کہ ملکی صدر کے عہدے پر حسنی مبارک ہی فائز رہے ہیں، جو اب بھی ہیں۔ اس پس منظر میں مصر میں نوجوان نسل کافی بے چین نظر آتی ہے۔

یہ نوجوان ریاستی سطح پر ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے انٹر نیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس طرح وہ نہ صرف اپنا تزکیہ نفس کر رہے ہیں بلکہ ایک تبدیلی کی امید بھی ان کے دلوں میں زندہ ہے۔

مصر میں کئی نوجوانوں نے اپنے خیالات کا کھلا اور برملا اظہار کرنے کے لئے انٹر نیٹ کا خوب استمعال کیا ہے۔ وہ نہ صرف روز مرہ زندگی میں ہونے والی ناانصافیوں کو فیس بُک اور ٹویٹر پر شیئر کرتے ہیں بلکہ ساتھ ہی وہ ایسے لوگوں کے لئے بلاگنگ بھی کرتے ہیں، جو کسی نہ کسی سطح پر تشدد کا نشانہ بنائے گئے ہوں۔

Fotomontage Ägypten Mubarak Obama Screenshot Al Ahram

مصر میں ریاستی نا انصافی کے خلاف بلاگرز انٹر نیٹ کا خوب استعمال کر رہےہیں

مصطفیٰ حسین بھی انہی میں سے ایک ہیں، جو پیشے کے اعتبار سے ایک سائیکالوجسٹ ہیں۔ مصری دارالحکومت قاہرہ کے وسط میں انہوں نے ایک ایسا مرکز قائم کر رکھا ہے، جہاں وہ جبر و تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کو نفسیاتی مدد فراہم کرتے ہیں۔ ’ندیم سینٹر‘ ایسے بہت سے لوگوں کے لئے سکون کی جگہ ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے تشدد کا نشانہ بنے ہوں۔

مصطفیٰ حسین کہتے ہیں، ’میں لوگوں کی مدد کرنے کے لئے اپنی بہترین کوششیں بروئے کار لاتا ہوں تاکہ وہ اپنی زندگی میں دوبارہ ہنس سکیں، کھل کر بول سکیں اور چین کی نیند سو سکیں۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ وہ اپنی مشکلات کے بارے میں کھل کر بات کریں۔ میں ایسے متاثرین کو یہ احساس دلانے کی کوشش کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، اس میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا بلکہ قصور دراصل پولیس کا تھا۔ اس کام سے مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں ان کے دکھوں کا کچھ ازالہ کر رہا ہوں۔‘‘

تیس سالہ ماہر نفسیات مصطفیٰ حسین بڑے نرم لہجے میں گفتگو کرتے ہیں۔ کالے بال، مہربان آنکھیں اور ان پر پتلے فریم والی عینک، وہ اکثر لفظوں کی تلاش میں رہتے ہیں لیکن جب انہیں اپنے خیالات کے اظہار کے لئے مناسب الفاظ ملتے ہیں، تو وہ انتہائی منطق اور استدلال کے ساتھ اپنا موقف بیان کرتے ہیں۔ وہ روزانہ ایسے کئی افراد کی کہانیاں سنتے ہیں، جو یا تو پولیس کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنے ہوتے ہیں یا پھر بےعزتی کا، ’صورتحال انتہائی خراب ہے۔ حکومت اور ملکی وزارت داخلہ ہمیں انسان ہی نہیں سمجھتے۔ جو جتنا غریب ہے، اس کے ساتھ اتنا ہی برا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔‘

مصطفیٰ حسین نے بھی اپنے ملک میں صرف ایک ہی صدر دیکھا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مصر میں لوگ تبدیلی کا بڑی شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق مصر میں نصف آبادی تیس سال سے کم عمر والے شہریوں کی ہے، جو ملک میں تبدیلی کے لئے سرگرم نظر آتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے اس جدید دور میں وہ اپنی مہم جوئی کے لئے انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

فیس بُک اور ٹویٹر پر نوجوانوں کو بلاگنگ کرتے دیکھنے والے مصطفیٰ حسین کہتے ہیں: ’’مصر میں آزادی رائے کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ میرے لئے یہ ایک اندھیری غار میں روشنی کی ایک کرن ہے۔ ہم نے بلاگنگ کے ذریعے کئی حدیں پار کی ہیں۔ جتنے لوگ اس مہم میں شامل ہوں گے، حکومت پر دباؤ اتنا ہی زیادہ ہو گا۔‘‘

Besuch von Husni Mubarak in Berlin

مصری صدر حسنی مبارک

مصر میں احتجاج یا مظاہرہ کرنے والوں کو ہمیشہ ہی گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ لیکن تبدیلی کے خواہاں لوگ پھر بھی مزاحمت پر تیار نظر آتے ہیں۔ وہ انٹرنیٹ پر تصویریں، ویڈیوز اور دیگر معلوماتی مواد شائع کرتے رہتے ہیں، جو بالآخر عالمی میڈیا تک بھی پہنچ جاتا ہے، ’’مجھے کوئی امید نہیں کہ موجودہ حکومت ہمارے مطالبات سنے گی یا انہیں تسلیم کرے گی۔ لیکن ہم ہمیشہ اونچی آواز میں مطالبے کرتے رہیں گے۔ ہم مزید لوگوں کے ساتھ نیٹ ورکنگ بڑھائیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ میری طرح سوچنے والے اور بھی بہت سے لوگ ہیں۔ یہ میرے لئے بڑی مثبت بات ہے۔ جب تک ہمارے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے، سب کچھ ہو سکتا ہے۔‘‘

ایک بین الاقوامی جائزے کے مطابق عرب دنیا میں اخبارات اور جرائد کے قارئین کے مقابلے میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM