1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں پر تشدد عوامی مظاہروں کا تیسرا دن

مصر میں حسنی مبارک کے دور صدارت کے خلاف عوامی مظاہرے جمعرات کو اپنے تیسرے روز میں داخل ہو گئے۔ اس دوران چند شہروں میں مظاہرین کی طرف سے گزشتہ رات مختلف عمارات کو آگ بھی لگا دی اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔

default

قاہرہ میں پرتشدد عوامی احتجاج

مصر میں صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاج اتنا شدید ہو چکا ہے جتنا گزشتہ تین عشروں میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ اس احتجاج کے دوران اب تک کم ازکم نصف درجن مظاہرین ہلاک اور بیسیوں زخمی بھی ہو چکے ہیں۔ سرکاری حکام نے دارالحکومت قاہرہ اور مشرقی ساحلی شہر سوئز کے علاوہ کئی دوسرے شہروں سے بھی مجموعی طور پر کم ازکم سات سو افراد کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔

صدر مبارک کے خلاف ملکی اپوزیشن اور عوام کی اس تحریک میں اب محمد البرادعی بھی شامل ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ اور نوبل امن انعام یافتہ محمد البرادعی نے، جو حسنی مبارک کے اہم ترین ناقدین میں شمار ہوتے ہیں، کہا ہے کہ وہ بھی اس عوامی احتجاج میں شمولیت کے لیے قاہرہ پہنچ رہے ہیں۔ البرادعی کے ایک بھائی کے مطابق آج دوپہر تک ویانا میں موجود نوبل امن انعام یافتہ البرادعی کے مطابق، ’اب وقت آ گیا ہے کہ مصر میں سربراہ مملکت کے طور پر حسنی مبارک اقتدار چھوڑ دیں۔‘

NO FLASH Hosni Mubarak

حسنی مبارک کے لیے حالات پر قابو پانا بظاہر مشکل ہوتا جا رہا ہے

قاہرہ کے لیے روانگی سے قبل البرادعی نے ویانا میں صحافیوں کو بتایا کہ کل جمعہ کے روز پورے مصر میں عوامی احتجاج کا جو پروگرام بنایا گیا ہے، وہ انتہائی اہم ثابت ہو گا۔ انہوں نے اپنے ہم وطن مظاہرین سے پر امن احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔

اسی دوران مصر میں حکومت عوامی مظاہروں پر طاقت کے ذریعے قابو پانے کا بھر پور تہیہ کیے ہوئے ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے خلاف تحریک میں آنے والی شدت کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے مبارک انتظامیہ نے مصری صارفین کی فیس بک اور ٹیوٹر جیسی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اور گوگل میل جیسے ای میل سہولتوں تک رسائی بھی معطل کر دی ہے۔ قاہرہ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس وقت مصر میں صرف ایک ISP کمپنی کے ذریعے فیس بک، ٹیوٹر اور جی میل تک عام صارفین کی رسائی ممکن ہے۔

دریں اثناء پیرس میں فرانسیسی وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ قاہرہ حکومت کو مصری عوام کے اپنی رائے کے اظہار کے بنیادی حق کا احترام کرنا چاہیے۔ دیگر رپورٹوں کے مطابق تین روز پہلے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے مظاہرین میں سے چالیس کے خلاف بغاوت کے الزام میں باقاعدہ فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

دیگر رپورٹوں کے مطابق شہر سوئز میں قریب چھ سو مظاہرین کی پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں عمل میں آئیں۔ اس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی استعمال کی گئی۔ خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق مصر میں اس وقت جن تین شہروں میں صدر حسنی مبارک کے 1981 سے شروع ہونے والے دور صدارت کے خلاف سب سے شدید مظاہرے کیے جا رہے ہیں، ان میں قاہرہ، سویز اور اسماعیلیہ شامل ہیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM