1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں پرتشدد مظاہرے پانچویں روز بھی جاری

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں تحریر اسکوائر پر جمع مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا تازہ سلسلہ پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے منگل کو بھی مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تحریر اسکوائر پر جھڑپیں پیر کی شب بھی جاری رہیں۔ منگل کی صبح بھی مظاہرین وہاں موجود تھے، جن کے خلاف فوج اور پولیس نے ہتھیاروں کے ساتھ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل بھی استعمال کیے ہیں۔

طبی ذرائع کے مطابق تحریر اسکوائر اور اس کے قریبی علاقوں میں جمعے کو شروع والے پرتشدد مظاہروں کے دوارن ہلاکتوں کی تعداد تیرہ ہو چکی ہے  جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔

فوجی جنرلز اور ان کے مشیروں نے جمہوریت نوازوں کی جانب  سے جاری مظاہروں کی مذمت کی ہے۔ بعض نے بہت ہی سخت الفاظ میں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مصری حکام کی جانب سے طاقت کے استعمال پر تنقید کی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے ہتھیار مہیا کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ مصر کو چھوٹے ہتھیاروں کی فراہمی بند کر دیں۔

مصر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے دوران ہزاروں تاریخی اور نایاب دستاویزات بھی تباہ ہو گئی ہیں۔ ان میں مخطوطے بھی شامل ہیں۔ یہ دستاویزات قاہرہ میں قائم Institute d'Egypte میں ویک اینڈ پر لگنے والی آگ کے نتیجے میں جل کر راکھ ہو گئیں۔ یہ آگ سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کےد رمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں لگی۔

بعدازاں شہریوں اور ماہرین تعلیم پر مشتمل رضاکاروں نے اس مرکز میں بچ جانے والی کتابوں اور دستاویزات کو نکالنے پر دو دِن صَرف کیے۔

Gewalt und Ausschreitungen in Ägypten

تاریخی مرکز میں آگ لگنے سے ہزاروں دستاویزات جل گئیں

یہ انسٹی ٹیوٹ نپولین بونا پارٹ نے اٹھارویں صدی کے آخر میں مصر پر فرانس کی جانب سے چڑھائی کے دوران قائم کیا تھا۔ وہاں موجود کتابوں، جرنلز اور دیگر دستاویزات کی تعداد ایک لاکھ بانوے ہزار تھی۔

ریٹائرڈ جنرل اور عسکری مشیر عبدالمنعم کاتو نے اس مرکز پر لگنے والی آگ سے متعلق بات کرے ہوئے کہا: ’’جب آپ مصر اور اس کی تاریخ کو اپنے آنکھوں کے سامنے جلتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ پھر بھی آپ ان آوارہ گردوں کےلیے پریشان ہیں جنہیں ہٹلر کی بھٹیوں میں جلا دیا جانا چاہیے۔‘‘

ان ہنگاموں کی وجہ سے پارلیمانی انتخاب کا عمل بھی متاثر ہے، جو اٹھائیس نومبر کو شروع ہوئے اور گیارہ جنوری تک جاری رہیں گے۔ تاہم فوج کا کہنا ہے کہ اقتدار کی سویلین حکمرانوں کو منتقلی کے جس عمل کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ نبھایا جائے گا۔

ان انتخابات کے اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ا‌خوان المسلمین سمیت کٹر النور کو برتری حاصل کر سکتی ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل ⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس