1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں پارلیمنٹ تحلیل، آئین معطل

مصر کے نئے فوجی حکمرانوں نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی ہے جبکہ آئین بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت سابق صدر حسنی مبارک کی جانب سے مستعفی ہونے کے دو روز بعد سامنے آئی ہے۔

default

یہ اعلان سرکاری ٹیلی ویژن پر کیا گیا ہے۔ فوج نے کہا ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے اندر اندر انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔ تحلیل کردہ کابینہ میں حسنی مبارک کی پارٹی کے ارکان کی زیادہ تعداد شامل تھی۔

دوسری جانب مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہزاروں مظاہرین نے التحریر اسکوائر پر پھر سے ڈیرہ جما لیا ہے۔ فوج نے انہیں منتشر کرنے کی کوشش بھی کی جبکہ وزارت داخلہ کے دفاتر کے قریب فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

قاہرہ میں وزارت داخلہ کے دفاتر کے قریب پولیس اہلکاروں نے مظاہرہ کیا۔ وہ تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس موقع پر ہوائی فائرنگ کی گئی۔

Revolution in Ägypten

تحریر اسکوائر پر موجود ایک لڑکی فوجیوں کو پھول پیش کر رہی ہے

فوج نے التحریر اسکوائر پر جمع مظاہرین کو علاقہ خالی کرنے کے لیے کہا، تاہم وہ یہ نعرے لگاتے رہے، ’فوج اور عوام متحد ہیں‘، ’انقلاب، جب تک فتح مل نہیں جاتی انقلاب۔‘

مظاہرین میں سے ایک شخص نے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا، ’فوج مصر کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا کام ہمیں التحریر اسکوائر سے ہٹانا نہیں۔ انہیں ہمارے مطالبات کا جواب دینا چاہیے۔‘

اس دوران فوج نے آگے بڑھنے کی کوشش کی جبکہ کہیں کہیں لاٹھی چارج بھی ہوا۔ تاہم مظاہرین ڈٹے رہے جبکہ مزید افراد ان کا حصہ بنتے گئے۔ مظاہروں کے منتظمین انقلاب کے تحفظ کے لیے ’کونسل آف ٹرسٹیز‘ قائم کر رہے ہیں، جو فوج کے ساتھ مذاکرات کرے گی۔

دوسری جانب ملٹری پولیس کے سربراہ محمد ابراہیم مصطفیٰ علی نے مظاہرین سے مخاطب ہو کر کہا، ’آج کے بعد ہم کسی فرد کو تحریر اسکوائر پر بیٹھے نہیں دیکھنا چاہتے۔‘

ایک فوجی کیپٹن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا، ’عمومی احکامات یہ ہیں کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ صورت حال کنٹرول سے باہر ہونے پر کیا کرنا ہوگا۔ تاہم فائرنگ قطعی منع ہے۔’

Revolution in Ägypten

ملٹری پولیس مظاہرین کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے

قبل ازیں کابینہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ سابق صدر حسنی مبارک کی جانب سے تشکیل دی گئی کابینہ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہو گی اور اسی کے ارکان آئندہ مہینوں میں اقتدار کی منتقلی کے عمل کی نگرانی کریں گے۔’

اتوار کے لیے کابینہ کا اجلاس بھی شیڈول تھا، جس میں مظاہرین کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات کا ردِ عمل سامنے آنے کے اشارے دیے جا رہے تھے۔ ترجمان کا کہنا تھا، ’جب تک تبدیلی کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا، حکومت آئندہ چند ماہ تک اسی شکل میں برقرار رہے گی۔ تب جمہوری اصولوں کے مطابق نئی حکومت مقرر کی جائے گی۔‘

انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت حکومت کا بنیادی کام امن و امان بحال کرنا ہے جبکہ معاشی بحالی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک نے اٹھارہ روز تک جاری رہنے والے عوامی احتجاج کے بعد جمعہ کو اقتدار چھوڑ دیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبررساں ادارے

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس