1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں پارلیمانی الیکشن ستمبر میں کروانے کا اعلان

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے بعد اقتدار سنبھالنے والی فوجی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات رواں برس ستمبر میں کروائے جائیں گے۔

default

مصر میں نئی قانون ساز اسمبلی کے الیکشن کروانے کا ا اعلان پیر کو کیا گیا۔ فوجی کونسل کے مطابق یہ انتخابات ستمبر میں منعقد کروائے جائیں گے اور ان کے بعد صدارتی الیکشن کا مرحلہ مکمل کیا جائے گا۔

مصر میں عوامی ریلیوں کے بعد فوجی کونسل کی جانب سے عائد کیے جانے والے کرفیو کے اوقات میں تین گھنٹے کی کمی کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمانی الیکشن سے قبل کرفیو اٹھانے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔ کرفیو میں کمی کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکمران عسکری کونسل کو اس کا یقین ہوتا جا رہا ہے کہ امن و امان کے حوالے سے مقامی انتظامیہ اور پولیس اب فعال ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کا گشت بھی معمول پر آ چکا ہے۔

ستمبر میں الیکشن کروانے کا اعلان فوجی کونسل کے رکن ممدوح شاہین نے قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔ اس میں انہوں نے واضح کیا کہ صدارتی الیکشن کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ممدوح شاہین کے مطابق اگلے دنوں میں فوجی کونسل کی جانب سے ایک قانونی حکم جاری کیا جانے والا ہے، جو اس کونسل کے عبوری اقتدار کو قانونی جواز فراہم کرے گا۔ حسنی مبارک کے بعد فوج نے اقتدار سنبھال کر اسمبلی کو تحلیل اور ملکی دستور معطل کردیا تھا۔

مختلف سیاسی جماعتوں نے بھرپور انتخابی مہم کے لیے کم وقت کا بھی ذکر ضرور کیا لیکن اخوان المسلمین نے جلد از جلد انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔ نئی سیاسی جماعت وسط پارٹی کے لیڈر ابو الیلا مادی کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے لیے وقت کم ہے۔

Flash-Galerie Ende Mubarak Ära Fernsehrede

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک

ایسے امکانات سامنے آ رہے ہیں کہ مصر کے مذہبی اور اصلاح پسند حلقے اتفاق رائے کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ قانون سازی کے دوران ہم آہنگی کی فضا برقرار رہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ستمبر کا انتخابی عمل یقینی طور پر منظم مذہبی سیاسی جماعتوں کے لیے موزوں رہے گا۔ اس کے علاوہ معزول صدر حسنی مبارک کی بچی کھچی سیاسی جماعت کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔ مصری سیاست کے ماہر مصطفیٰ السید کے مطابق اگلے الیکشن عوامی احتجاج کے بعد ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس میں ان قوتوں کی اصل طاقت ظاہرہو گی جو حسنی مبارک کے طویل اقتدار کے خلاف متحرک تھیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس