1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں نئے وزیر داخلہ کا تقرر

مصر میں نئے وزیر داخلہ کی تقرری کر دی گئی ہے۔ اسے سابق صدر حسنی مبارک کے دَور اقتدار کے وزراء کو کابینہ سے ہٹائے جانے کے سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

default

منصور العیسوی کو اتوار کو مصر کا وزیر داخلہ مقرر کیا گیا۔ جمہوریت نواز کارکنوں نے کابینہ کو مبارک دور کے وزراء سے پاک بنانے کا مطالبہ کیا تھا، جس میں بالخصوص وزارتِ دفاع، انصاف اور داخلہ سے مبارک کے مقرر کردہ وزراء کو ہٹائے جانے پر زیادہ زور دیا گیا تھا۔

مصر کے سرکاری خبررساں ادارے MENA کے مطابق منصور العیسوی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں سلامتی کو یقینی بنانا ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔ ان کے پیشرو محمود واغدی کو حسنی مبارک نے وزارت داخلہ کا قلمدان سونپا تھا۔

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک نے گیارہ فروری کو اٹھارہ روز تک جاری رہنے والے عوامی احتجاج کے بعد عہدہ چھوڑا تھا۔ انہوں نے تین دہائیوں تک اس عرب ریاست پر حکمرانی کی۔

Ägypten Proteste

حسنی مبارک نے محمود واغدی کو وزیرداخلہ مقرر کیا تھا

انہوں نے اقتدار فوج کو سونپا تھا، جس نے نگران حکومت قائم کر رکھی ہے، جو نئے آئین کی منظوری اور انتخابات کے انعقاد تک ملک کی باگ ڈور سنبھالے گی۔

خیال رہے کہ اپنے دورِ اقتدار کے خلاف وسیع تر مظاہرے شروع ہونے پر قبل ازیں حسنی مبارک نے فوری طور پر مستعفی ہونے سے انکار کیا تھا۔ تب انہوں نے محض یہ یقین دلایا تھا کہ وہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ تاہم مظاہروں میں شدت آنے پر وہ اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

مصر میں حکومت مخالف مظاہرے دراصل تیونس میں ایسے ہی عوامی احتجاج کے بعد شروع ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں وہاں معذول صدر زین العابدین بن علی اپنا طویل اقتدار چھوڑ کر ملک سے فرار ہو گئے تھے۔

تیونس اور مصر میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ اب دیگر عرب ریاستوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ اس حوالے سے لیبیا خاص طور پر عالمی توجہ کا مرکز ہے، جہاں کے عوام معمر قذافی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ چالیس برس سے وہاں حکمرانی کر رہے ہیں۔

تاہم قذافی کی جانب سے اقتدار چھوڑنے سے انکار پر حالات انتہائی کشیدہ رُخ اختیار کر چکے ہیں۔ عالمی برادری لیبیا کے شہریوں کے خلاف تشدد کے استعمال پر سخت ردعمل ظاہر کر رہی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس