1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں ’ملین مارچ‘ کا اعلان

مصر میں 30 برسوں سے برسر اقتدار صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے لیے منگل کو ’ملین مارچ‘ کا اعلان کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب کئی ممالک نے اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کو مصر چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دیں۔

default

مظاہروں کے ساتویں روز بھی ہزاروں افراد احتجاج کے لیے قاہرہ میں جمع ہیں۔ احتجاجی مظاہروں کے ایک منتظم عید محمد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ گزشتہ رات صدر حسنی مبارک کے خلاف ’ملین مارچ‘ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آج ملک بھر میں عام ہڑتال بھی کی جائے گی۔ عام ہڑتال کا اعلان اتوار کو شہر سوئز میں کر دیا گیا تھا۔ سوئز میں احتجاجی مظاہروں کے ایک آرگنائزر محمد وقید کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں کر لیے جاتے۔

Ägypten Kairo Proteste

مصر میں گزشتہ چھ روز سے مسلسل مظاہرے جاری ہیں

گزشتہ تین عشروں میں سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں کوجاری رکھنے کے لیے دارالحکومت قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں ہزاروں افراد نے شدید سردی اور دھند میں رات کھلے آسمان تلے گزاری۔ تحریر چوک میں موجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ تب تک اس جگہ سے نہیں ہٹیں گے جب تک صدر مبارک نہیں ہٹ جاتے۔ ابھی تک ان مظاہروں میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ممکنہ خطرے کے پیش نظر مختلف ممالک نے اپنے شہریوں کو مصر سے نکالنے کے لیے انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ گزشتہ روز پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

آج انڈو نیشیا اور آسٹریلیا کی طرف سے بھی اپنے شہریوں کو فوری طور پر مصر چھوڑنے کے لیے کہا گیا اور کسی بھی بحران میں شہریوں کی واپسی کے لیے ایک ایک جہاز بھی بھیج دیا گیا ہے۔ یونان میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ امریکی شہریوں کی واپسی کے لیے ایک چارٹر جہاز بہت جلد مصر پہنچنے والا ہے۔ جرمن پریس ایجنسی DPA کے مطابق جرمن سفارتی عملے سمیت 140 افراد جبکہ 300 سے زائد بھارتی باشندوں کو مصر سے نکال لیا گیا ہے۔

پیر کی صبح یورپی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا۔ خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی وقت مصر میں جاری پر تشدد مظاہرے دوسرے عرب ملکوں تک بھی پھیل سکتے ہیں اور تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ مصر میں حکومت کی تبدیلی سے نہر سوئز کوبند کیا جا سکتا ہے۔ نہر سوئز تیل کی سپلائی کا ایک اہم روٹ ہے اور اس کے ذریعے یومیہ ایک ملین بیرل تیل کی ترسیل کی جاتی ہے۔ دوسری جانب تیل کی عالمی تنظیم اوپیک کے سیکرٹری جنرل عبد اللہ البدری نے اشارہ دیا ہے کہ تیل کی سپلائی میں خلل آنے کی صورت میں تیل کی مجموعی پیداوار بڑھا دی جائے گی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM