1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں مذہبی فسادات کے بعد سخت سکیورٹی اقدامات

مصر میں مسلم مسیحی فسادات کے بعد سکیورٹی اقدامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔ ان فسادات میں 12 افراد کی ہلاکت کے بعد 190 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

default

عرب ٹیلی وژن ادارے الجزیرہ کے مطابق مسلم مسیحی فسادات کے بعد مصری سکیورٹی فورسز نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے فسادات میں ملوث افراد کی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔ مصر کی فوج کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے 190 افراد پر اعلیٰ ترین فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ مصر میں ان فسادات کا آغاز ان افواہوں کے بعد ہوا تھا، جن کے مطابق ایک مسیحی خاتوں کے مسلمان ہوجانے کے بعد اسے ایک چرچ میں قید کر دیا گیا ہے۔ ان فسادات کا آغاز ہفتہ کے روز قاہرہ شہر کے شمال مغربی مضافاتی علاقے امبابا میں ہوا تھا۔ ان مذہبی فسادات میں 188سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مسیحی اور مسلمان گروپوں کے درمیان خاتوں کے جھگڑے کے بعد امبابا کے قبطی سینٹ مینا چرچ پر سلفی عقیدے کے تقریباﹰ 500 مسلمانوں کی طرف سے حملہ کر دیا گیا تھا۔

قبل ازیں مصر میں رواں برس 9 مارچ کو بھی مسلم مسیحی فسادات ہوئے تھے، جن میں 13 قبطی شہری ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ایک چرچ کو بھی آگ لگا دی گئی تھی۔ مصر میں حسنی مبارک کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد نئی حکومت کے لیے مسلم عیسائی فسادات کو کنٹرول کرنا ایک بڑا چلینج قرار دیا جا رہا ہے۔

NO FLASH Clashes between Muslims and Coptic Christians

ان مذہبی فسادات میں 188سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں

مذہبی فسادات کے بعد مصری وزیر اعظم ایسام شرف نے اپنی کابینہ کی ایک خصوصی ہنگامی میٹنگ بھی طلب کر لی تھی۔ انہوں نے ان فسادات کے پیش نظر اپنا خلیجی ریاستوں کا دورہ بھی منسوخ کر دیا تھا۔ کابینہ کے اس خصوصی اجلاس میں امبابا کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ مصر کے مفتیٴ اعظم علی جمعہ نے بھی ان فسادات کی پر زور انداز میں مذمت کرتے ہوئے انہیں مذہب اسلام کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ حسنی مبارک کے خلاف مصری مسلمانوں اور مسیحی باشندوں نے مل کر احتجاجی مظاہرے کیے تھے لیکن اس کے باوجود مصر میں مذہبی فسادات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان فسادات کے بعد اتوار کے روز مصری عوام کی طرف سے مسیحی آبادی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے بھی کیے گئے۔

قبطی مسیحی باشندے مصر کی ایک اہم اقلیت ہیں اور یہ کل آبادی کا قریب دس فیصد بنتے ہیں۔ مصر کی کل آبادی 80 ملین ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM