1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں مذہبی فسادات: کم از کم ایک درجن ہلاک

مصری دارالحکومت قاہرہ کے نواح میں سلفی مسلمانوں اور قبطی مسیحیوں کے درمیان شروع ہونے والے فسادات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دس سے بڑھ گئی ہے۔ کئی دوسرے زخمی بھی ہیں۔ بلوے میں شریک افراد کی گرفتاریاں شروع ہیں۔

default

ایک قبطی کراس کا نشان بناتے ہوئے

قاہرہ شہر کے شمال مغرب میں واقع نواحی علاقے امبابا میں 188سے زائد لوگ زخمی بھی ہیں۔ مسیحی اور مسلمان گروپوں کے جھگڑے کے بعد امبابا کے قبطی سینٹ مینا چرچ پر مسلمانوں نے دھاوا بھی بولا۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سرکاری ٹیلی وژن نےاب تک بارہ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اس چرچ کو فوج اور پولیس نے بروقت کارروائی سے بچا لیا۔ مصر کی نگران فوجی حکومت نے 190 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

سلفی مسلمانوں کے مطابق وہ چرچ میں مقید ایک خاتون کی رہائی چاہتے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ جھگڑے کی بنیاد ایک مسیحی خاتون کا مشرف بہ اسلام ہونا ہے۔ چرچ پر حملہ کرنے والے مسلمان سخت گیر سلفی عقیدے سے نسبت رکھتے تھے۔ فسادات کے تناظر میں سینٹ مینا چرچ کی حفاظت کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ چرچ کی عمارت کے ارد گرد فوج کی آرمرڈ وہیکلز تعینات کردی گئی ہیں۔ دوسری جانب سلفی مسلمانوں نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں قبطی چرچ کے صدر دفتر کے باہر بھی مظاہرہ کیا۔

امبابا میں تقریباً پانچ سو افراد گرجا گھر میں مقید خاتون کی آزادی کے طلبگار تھے۔ ان کٹر مسلمانوں کے ایکشن کی وجہ سے امبابا میں انتہائی کشیدگی کے بعد فریقین نے ایک دوسرے پتھراؤ کے علاوہ فائربم بھی پھینکے۔ پولیس اور فوج نے قبطیوں اور سلفی گروپ کے مسلمانوں کو ہوائی فائرنگ کے ساتھ آنسو گیس کا سہارا لے کرعلیحدہ کیا۔

Gewalt zwischen Christen und Moslems in Kairo Ägypten Feuer in Kirche Flash-Galerie

امبابا میں جلتے چرچ کے باہر لوگوں کا ہجوم

فسادات کی ابتداء ہفتہ کے روز ہوئی تھی اور ان میں پانچ افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی تھی۔ روئٹرز کے مطابق اسی علاقے میں ایک اور چرچ کو آگ لگا کر شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس چرچ سے ایک لاش بھی پولیس کو ملی ہے۔

مذہبی فسادات کے بعد مصری وزیر اعظم ایسام شرف نے اپنی کابینہ کی خصوصی ہنگامی میٹنگ طلب کر لی۔ انہوں نے ان فسادات کے پیش نظر اپنا خلیجی ریاستوں کا دورہ بھی منسوخ کردیا۔ کابینہ کی خصوصی میٹنگ میں امبابا کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ مصر کے مفتیٴ اعظم علی جمعہ نے بھی ان فسادات کی پرزور انداز میں مذمت کرتے ہوئے انہیں مذہب اسلام کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔

قبطی مسیحی مصر کی ایک اہم اقلیت ہیں اور یہ کل آبادی کا دس فیصد ہیں۔ مصر کی کل آبادی 80 ملین ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں قبطی مسیحی اورمصر کے سلفی مسلمان گاہے بگاہے ایک دوسرے سے مختلف معاملات پر الجھتے دیکھے گئے ہیں۔ ماہرین اس کی ایک وجہ مسلمانوں کے ایک گروہ میں کٹر سلفی عقائد کا فروغ خیال کرتے ہیں۔ معزول صدر حسنی مبارک کے آخری ایام سے یہ منافرت قبطیوں اور کٹر مسلمانوں میں جڑ پکڑنے لگی ہے۔ حسنی مبارک کے خلاف عوامی تحریک کے دوران پولیس غائب ہوگئی تھی۔ گو اب پولیس واپس ڈیوٹی پر حاضر ہو گئی ہے لیکن ان کے اندر عوامی تحریک کے دوران پیدا ہونے والا خوف ختم نہیں ہوا ہے۔ مصر میں اس باعث مجموعی امن و سلامتی کی صورت قدرے کمزور خیال کی جاتی ہے اور فسادات پھیلنے کی ایک یہ بھی وجہ ہے۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس