1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں مذہبی فسادات، کم ازکم 24 افراد ہلاک

مصری دارالحکومت قاہرہ میں قبطی مسیحیوں اور ملٹری پولیس کے مابین تصادم کے نتیجے میں کم ازکم 24 افراد کے ہلاک ہونے کے اطلاعات ہیں۔ اتوار کی شب شروع ہونی والی ان جھڑپوں کے نتیجے میں سینکٹروں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

default

مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق ان جھڑپوں پر قابو پانے کے لیے قاہرہ کے کئی علاقوں میں رات کا کرفیو نفاذ کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ مسلح تصادم اس وقت شروع ہوا، جب قبطی مسیحیوں نے گزشتہ ہفتہ ایک چرچ پر ہوئے حملے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے سرکاری ٹیلی وژن کی عمارت کے باہر دھرنا  دینے کی کوشش کی۔ قبطی مسیحیوں کا الزام ہے کہ چرچ پر حملہ مسلم انتہا پسندوں نے کیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ جب مسیحیوں کی ایک بڑی تعداد نے شمالی قاہرہ میں واقع ماسپیرو اسکوائر کے باہرجمع ہونا شروع کیا تو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے ان پر حملہ کر دیا۔ جس کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ طبی ذرائع کے مطابق اب تک 170 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

Ägypten Proteste NO Flash

ان جھڑہوں کے شروع ہونے کے بعد قاہرہ کے کئی علاقوں میں کرفیو لگا دیا گیا ہے

قبطی مسیحیوں کے ایک ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ان پر حملے کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا جو جلد ہی شہر بھر میں پھیل گیا۔ مصری سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق مسیحیوں نے ملٹری پولیس پر پتھراؤ کیا، پیٹرول کے بنے بم برسائے اور متعدد گاڑیوں کو نذرآتش کر دیا۔ جواب میں سکیورٹی فورسز نے مشتعل مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے برسائے۔ عینی شاہدین کے مطابق اس دوران فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

قبطی مسیحی مصر کی کل آبادی کا دس فیصد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملٹری کونسل مسیحیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیوں کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں سستی کر رہی ہے۔ انہوں نے ملٹری کونسل کے چیئر مین فیلڈ مارشل محمد طنطاوی کے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔ مصری صدر حسنی مبارک کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد ملٹری کونسل نے ملک کی باگ ڈور سنبھال رکھی ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے مصر میں مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رواں برس مئی میں قبطی مسیحیوں کے مختلف چرچوں پر حملے کے نتیجے میں کم از کم بارہ مسیحی مارے گئے تھے جبکہ مارچ میں مسلمانوں اور قبطی مسیحیوں کے مابین ہونے والے تصادم کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مصر میں سب سے بڑی اقلیت قبطی مسیحیوں کا کہنا ہے کہ ریاستی سطح پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔

Ägypten Christen Proteste NO Flash

مصر میں سب سے بڑی اقلیت قطبی مسیحیوں کا کہنا ہے کہ ریاستی سطح پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے

مصر میں یہ نئے مذہبی فسادات ایسے وقت میں شروع ہوئے ہیں، جب اٹھائیس نومبر کو ملک میں پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کروایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں مصری وزیر اعظم اعصام شرف نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے مابین منافرت سے ملک کی داخلی صورتحال کو خطرہ پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس