1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں عوامی انقلاب کے بعد اسرائیلی خدشات

مصر میں آنے والے سیاسی زلزلے کے جھٹکے اسرائیل تک محسوس کیے گئے ہیں۔ اب اس بات کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ اسرائیل کو اپنے طاقت ور ہسمایہ ملک سے مستقبل میں شاید مشکل اور صبر آزما سفارتی تعلقات کا سامنا کرنا پڑے۔

default

اگرچہ حسنی مبارک کے صدارت کے عہدے سے الگ ہونے کے بعد ملکی فوج نے یقین دہانی کروائی ہے کہ مصر اپنے تمام تر بین الاقوامی معاہدوں پر قائم رہے گا لیکن پھر بھی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ کچھ برسوں کے بعد مصر اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات ویسے دوستانہ نہیں رہیں گے، جیسے کہ وہ حسنی مبارک کے دور میں رہے تھے۔

اسرائیلی حکومت نے مصری فوج کی طرف سے دیے گئے اس بیان کو خوش آمدید کہا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ قاہرہ اور یروشلم حکومتوں کے مابین سن 1979ء کے امن معاہدے پر عمل کیا جائے گا۔ دوسری طرف اسرائیلی وزارت خارجہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل Alon Liel نے مصر کی تازہ ترین صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے، ’اس صورتحال نے ہمیں خطرناک حد تک اکیلا کر دیا ہے۔ مصر علاقائی سطح پر ہمارا واحد سٹریٹیجک پارٹنر رہا ہے۔‘ خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، ’’مستقبل میں مصر اور اسرائیل کے تعلقات کی نوعیت بدل جائے گی۔ ان تعلقات کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکے گا۔‘‘

Netanyahu und Mubarak in Kairo

سابق مصری صدر حسنی مبارک اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو

حسنی مبارک نے اپنے قریب تیس سالہ دور اقتدار میں آٹھ مختلف اسرائیلی وزرائے اعظم کو ڈیل کیا اور اس دوران قاہرہ حکومت اسرائیل کے لیے ایک بہت اچھا دوست ثابت ہوئی۔ مصر وہ واحد عرب ریاست ہے، جس کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات ہیں اور مصر کا ایک سفیر اسرائیل میں تعینات بھی ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران حسنی مبارک کی قیادت میں قاہرہ حکومت نے حماس کے جنگجوؤں سے نمٹنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ غزہ پر قابض عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس کے مصری سیاسی جماعت اخوان المسلمین کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ اب حسنی مبارک کے بعد بظاہر اخوان المسلمین ایک ایسی جماعت بن کر ابھری ہے، جو مصر میں برسر اقتدار آ سکتی ہے۔ حماس تنظیم پہلے ہی مصری حکومت کو یہ کہہ چکی ہے کہ غزہ کے ساتھ سرحدی راستے پر سخت سکیورٹی کنٹرول میں نرمی برتی جائے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت کا موقف ہے کہ مصر سے ملحقہ غزہ پٹی کے سرحدی علاقے میں زیر زمین خفیہ سرنگیں استعمال کرتے ہوئے حماس کے جنگجو اسلحے کی اسمگلنگ بھی کرتے ہیں۔

ایسے ماہرین بھی ہیں، جن کے خیال میں مصر میں آنے والے عوامی انقلاب کے بعد مصری حکومت کی آئندہ خارجہ پالیسی کیا ہوگی، اس بارے میں ابھی سے اندازے لگانا کوئی اتنی آسان بات نہیں ہے۔ لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ مستقبل کی مصری حکومت حسنی مبارک کی پالیسیوں پر ہی چلتی رہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM