1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں صوفیاء کے مزار مسلم انتہا پسندوں کا نشانہ

مصر کے ایک مخدوش قصبے قلیوب میں مسلم انتہا پسندوں کے ایک گروپ نے ایک صوفی بزرگ کے مزار پر حملہ کر کے اسے مسمار کرنے کی کوشش کی۔

default

مصر میں سلفیہ گروپ کا احتجاجی مارچ

نیم شب درجنوں باریش قدامت پسند نوجوانوں نے قلیوب میں قائم صوفی بزرگ عبدالرحمان کے مزار پر حملہ کر کے اسے ہتھوڑوں اور آہنی سلاخوں سے منہدم کرنے کی کوشش کی۔ ان کا تعلق کٹر سُنی انتہا پسند سلفی گروپ سے بتایا جاتا ہے۔ تاہم قلیوب کے مقامی باشندوں کو اس تخریب کاری کی بھنک لگ گئی اور انہوں نے متحد ہو کر اس صوفی بزرگ کے مزار کی بھرپور حفاظت کی اور ان تخریب کاروں کو علاقے سے مار بھگایا۔ قلیوب کے باشندوں کے لیے یہ مزار نہ صرف مقدس حیثیت کا حامل ہے بلکہ کئی پشتوں سے ان کی مذہبی ثقافت کا حصہ بھی مانا جاتا ہے۔ مقامی باشندوں میں سے ایک 58 سالہ حسین احمد نے مزار پر حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، ’حملہ آور سُنی مسلک سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند سلفی تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں مزار حرام ہے‘۔

Entwicklung der Unruhen in Ägypten Flash-Galerie

مصر کے حالیہ سیاسی بحران کے بعد سے سلفیہ گروپ کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے

قلیوب کے رہائشیوں نے حملہ آوروں کی خوب پٹائی کی۔ عینی شاہدین کے مطابق کم از کم دو انتہا پسندوں کو بُری طرح چوٹیں بھی آئیں۔

مصر میں حسنی مبارک کے دورِ حکومت کے خاتمے کے بعد سے مسلم انتہا پسندوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور ان کی تخریبی سرگرمیوں میں اضافہ اعتدال پسند مصری مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ دریں اثناء مصر میں حکمران ملٹری کونسل نے کہا ہے کہ وہ ملک میں ایران کی طرز پر کوئی مذہبی حکومت نہیں بننے دے گی۔ اس بیان کا مقصد مصر کے سیکولر حلقوں، مسیحی اقلیت اور رجعت پسند مسلمانوں کے اُن خدشات کو دور کرنا ہے، جن کے تحت یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ مصر میں انتہا پسند کہیں حکومت میں نہ آ جائیں۔

قلیوب میں ایک صوفی کے مزار پر ہونے والا حملہ وہاں کے مقامی باشندوں کے لیے بہت زیادہ خوف کا باعث نہ بنا تاہم انہوں نے حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملکی نظام پر کنٹرول کھوتے جا رہے ہیں۔

Afghanistan Sufismus

سلفیہ اتتہا پسند صوفی طریقت کی سخت مخالفت کرتے ہیں

اس کا ثبوت یہ ہے کہ انتہا پسند سلفی گروپ کے نمائندوں کو اتنی چھوٹ مل گئی ہے کہ وہ اپنے قدامت پسند خیالات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اب تک قاہرہ کے اطراف میں قائم قصبے قلیوب میں صوفیاء کے پانچ مزارات کو انتہا پسند سلفی نیست و نابود کر چکے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ مصر میں ایک بار پھر صوفیاء کے خلاف سلفیوں میں پائی جانے والی نفرت کی آگ بھڑک اُٹھی ہے۔

دریں اثناء جامعہ الازہر کے شیخ احمد الطیب نے آگ اور خون کے کھیل سے خبر دار کیا ہے۔ اس اسلامی مرکز کی طرف سے انتہا پسند نظریات کے پھیلاؤ کو روکنے کی تمام ممکنہ کوششوں پر زور دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس