1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مصر میں سکیورٹی فورسز بھی شدت پسندی میں اضافے کی وجہ‘

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین کے مطابق مصری سکیورٹی فورسز کی دست درازیوں سے وہاں اسی بنیاد پرستی اور شدت پسندی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، جن کو روکنے کی یہ فورسز کوششیں کر رہی ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا سے موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق عالمی ادارے کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر الحسین نے کہا کہ مصر میں بنیاد پرستی اور شدت پسندی کی روک تھام کے لیے اپنی کارروائیوں میں ملکی سکیورٹی دستے جس طرح بلا روک ٹوک اقدامات کر رہے ہیں، وہ شمالی افریقہ کی اس عرب ریاست میں انتہا پسندی میں کمی کے بجائے مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

Schweiz UN Menschenrechte Zeid Ra'ad al Hussein (picture alliance/AP Photo/S. Di Nolfi)

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین

مصر میں گزشتہ ماہ شدت پسند گروہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کی طرف سے مسیحی مذہبی اقلیت کے دو گرجا گھروں پر بڑے خود کش بم حملے کیے گئے تھے۔ یہ کارروائی پچھلے چند برسوں کے دوران مصر میں کی جانے والی خونریز ترین دہشت گردانہ کارروائیوں میں سے ایک تھی اور ان بم حملوں میں 45 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ان دوہرے خود کش بم حملوں کے محض چند ہی گھنٹے بعد مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے پورے ملک میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا تھا۔

اس پس منظر میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین نے پیر یکم مئی کی شام جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ قاہرہ حکومت نے مذہب کے نام پر عسکریت پسندانہ کارروائیاں کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف جنگ کے لیے جو طرز عمل اپنا رکھا ہے، وہ اس مسئلے میں کمی کے بجائے مزید شدت کا باعث بن رہا ہے۔

زید رعد الحسین نے کہا، ’’پورے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ، وسیع پیمانے پر گرفتاریاں، تشدد کی رپورٹیں اور لوگوں کا اندھا دھند حراست میں لیا جانا، ہمیں یقین ہے کہ یہ سب کچھ جیلوں میں رکھے جانے والے افراد میں شدت پسندانہ رجحانات کے مزید پھیلاؤ کی وجہ بن رہا ہے۔‘‘

Ägypten Schäden nach der Explosion in der Coptic Kirche in Kairo (REUTERS/Mohamed Abd/E. Ghany)

مصر میں گزشتہ ماہ داعش کے شدت پسندوں کی طرف سے دو مسیحی گرجا گھروں پر خود کش بم حملوں میں پینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے

عالمی ادارے کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے مزید کہا، ’’مصر میں سول سوسائٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کوئی ایسا قابل قبول طریقہ تو بالکل نہیں ہے، جس کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی جا سکے۔‘‘

الحسین کے اس موقف کے ردعمل میں قاہرہ میں مصری وزارت خارجہ کے ترجمان احمد ابو زید نے ہائی کمشنر کے ایسے بیانات کو ’غیر ذمے دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مصر کی صورت حال کا جائزہ لینے کا ’غیر متوازن‘ انداز ہے۔ وزارت خارجہ کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ’مصری معاشرے کو دہشت گردانہ کارروائیوں کا ہدف‘ بنایا جا رہا ہے۔

اس بیان میں مصری وزارت خارجہ نے مزید کہا، ’’ہائی کمشنر الحسین ان دیگر ریاستوں پر تو تنقید نہیں کرتے جو اپنے ہاں اسی طرح کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کرتی ہیں۔‘‘