1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں ریفرنڈم

مصر کے آئین میں بنیادی تبدیلیوں کے لئے ملک میں ریفرنڈم کرایا گیا۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری محاذ آرائی میں اضافے کا باعث بننے والے اس ریفرنڈم کو متنازعہ سمجھا جا رہا ہے۔

صدر حسنی مبارک اور ان کی حکومت کا موقف ہے کہ مصر کے آئین میں چونتیس اہم ترمیمیں کرکے ملک سے دھشت گردی کے خلاف موثر کاروائی میں مدد ملے گی جبکہ مذہب کی بنیاد پر سیاست کرنے والوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی ۔ دوسری جانب خاصی موثر اخوان المسلمین سمیت ملک کی اسلامی جماعتوں اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ان آئینی اصلاحات سے مصر ایک پولیس اسٹیٹ بن جائے گا ، سیاسی انتقام کی مہم شروع ہوجائے گی اور لوگوں کی سوچ پر پہرے بٹھا دئیے جائیں گے، اس لئے مصر کے عوام اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کردیں۔ انتہائی متضاد دعووں اور الزامات کے سائے تلے ہونے والے ریفرنڈم میں مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لوگوں نے زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا اور ملک کے طول عرض میں پھیلے ہوئے کوئی دس ہزار پولنگ اسٹیشن خاصے ویران نظر آئے۔

صدر حسنی مبارک نے اہلیہ سوزانے اور انتہائی بااثر سمجھے جانے والے اپنے 43 سالہ بیٹے جمال کے ساتھ قاہرہ کے شمال مغربی علاقے میں ووٹ ڈالا ۔ مبصرین کہتے ہیں کہ مصری حکام اس طرح کی صورتحال سے نمٹنا خوب جانتے ہیں اور جب سرکاری ملازمین کو باقاعدہ حاضری لگا کر ووٹ ڈالنے کے لئے لایا جائے گا تو نتائج میں ووٹ ڈالنے کی شرح کافی زیادہ نظر آئے گی ۔
مصر کی حکومت کہتی ہے کہ ملکی آئین میں ترمیم سے پارلیمان مزید مضبوط ہوگی ، سرکاری اداروں کو انسداد دھشت گردی کے لئے موثر اقدامات کرنے میں آسانی ہوجائے گی اور اس سلسلے میں 1981 سے نافذ العمل قانون ختم ہوجائے گا ۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی قومی اور بین الاقوامی تنظیموں اور کئی امریکی حلقوں کا بھی یہ خیال ہے کہ اس طرح مصر میں انسانی حقوق کی صورتحال اور زیادہ خراب ہوجائے گی ۔

مصر میں برسر اقتدار قومی جمہوری پارٹی کے مقابلے میں سب بڑی مخالف جماعت اخوان المسلمین کہتی ہے کہ یہ سب کچھ دراصل اس کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لئے کیا جارہا ہے اور اس طرح ملکی عدلیہ کی طاقت بھی کم کی جارہی ہے ۔نئے قوانین کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت پر ملک کے مفادات کے خلاف کام کرنے کا الزام لگا کر پابندی لگائی جاسکے گی اور یہ ساری کاروائی دراصل صدر حسنی مبارک کے بیٹے جمال کو آئندہ کے لئے مصر کا صدر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔ گزشتہ ہفتے امریکہ نے بھی مصر کی صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن امریکی وزیر ِ خارجہ کونڈولیزا رائیس نے اپنے حالیہ دورے میں یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا لی کہ ہر ملک کو اپنے حالات کے مطابق فیصلے کرنے کا حق ہے یعنی مصر کی حکومت مشرق وسطیٰ میں ہماری حمایت کے بدلے اندرون ملک کچھ بھی کرنے کا اختیار رکھتی ہے ۔