1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں روسی مسافر طیارہ تباہ، 224 افراد ہلاک

مصری وزیر اعظم شریف اسماعیل کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کر دی گئی ہے کہ ایک روسی فضائی کمپنی کا مسافر بردار ہوائی جہاز مصری جزیرہ نما سینائی میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

یہ مسافر بردار طیارہ مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ سے روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس میں کل 224 افراد سوار تھے۔ ہوا بازی کے مصری محکمے کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق یہ ایک چارٹرڈ پرواز تھی اور اس میں 217 مسافر اور عملے کے سات اراکین سوار تھے۔ ہلاک ہونے والے مسافروں میں سترہ بچے شامل ہیں۔ روس کے شہری ہوا بازی کے محکمے کے ایک اہلکار سیرگئی لزاولسکی نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ تباہ ہونے والا مسافر طیارہ آج ہفتے کی صبح چھ بجے کے قریب شرم الشیخ کے ہوائی اڈے سے روانہ ہوا تھا۔

اس ہوائی جہاز کا پرواز کے فوری بعدکنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ روسی نیوز ایجنسی RIA کا شروع میں دعویٰ تھا کہ طیارہ قبرص کی فضا میں راڈار اسکرین پر سے غائب ہوا تھا۔ تباہ ہونے والا ہوائی جہاز ایئر بسA-321 طرز کا تھا۔ یہ روسی فضائی کمپنی ’کوگالی ماوایا‘ کی ایک پرواز تھی۔ اس چارٹرڈ پرواز میں سوار تمام روسی شہری مصر کے بحیرہ احمر کے ساحلی و سیاحتی مقام شرم الشیخ چھٹیاں منانے آئے ہوئے تھے۔ تباہ شدہ ہوائی جہاز کا ملبہ وسطی سینائی کے پہاڑی علاقے میں ملنے کی مصری حکومتی اہلکاروں نے تصدیق کر دی ہے۔ قاہرہ میں حکام کے مطابق جزیرہ نما سینائی میں امدادی ٹیمیں ملبہ ملنے کی جگہ کی طرف روانہ کر دی گئی ہیں۔

Scharm al-Scheich

اس چارٹرڈ پرواز میں سوار تمام روسی شہری مصر کے بحیرہ احمر کے مقام شرم الشیخ چھٹیاں منانے آئے ہوئے تھے

وزیر اعظم شریف اسماعیل نے اس طیارے کی تباہی کے حوالے سے ملکی کابینہ کی ایک کرائسس کمیٹی قائم کر دی ہے۔ مصری وزیر اعظم بعض وزراء اور ہوا بازی سے متعلق اداروں کے سربراہوں کے ساتھ حادثے کی تباہی کے تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مصری محکمہٴ شہری ہوا بازی کا کہنا ہے کہ اس حادثے کی وجوہات کے تعین کے لیے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ روسی حکام بھی تباہی کا شکار ہونے والی پرواز کے مسافروں کے کوائف جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ قاہرہ میں روسی سفارت خانے کے مطابق ضروری معلومات جمع کرنے کے بعد عام کر دی جائیں گی۔

اس سے قبل یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس مسافر طیارے کے ساتھ کنٹرول ٹاور کا رابطہ ترکی کی فضائی حدود میں بحال ہو گیا تھا۔ تب مصر میں فضائی حادثات کے قومی کمیشن کے سربراہ ایمن المقدم نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا تھا کہ روسی فضائی کمپنی کے ایک ایجنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ لاپتہ ہوائی جہاز کو ترک فضائی حدود میں تلاش کر لیا گیا تھا۔ بعد کی پیش رفت نے بہرحال یہ دعویٰ غلط ثابت کر دیا۔