1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں حکومت مخالف مظاہرے، چھ ہلاک سینکڑوں گرفتار

مصر میں صدر حسنی مبارک کے 30 سالہ دور اقتدار کے خلاف شدید ترین مظاہرے جمعرات کے روز تیسرے دن میں داخل ہو گئے ہیں۔ متعدد ہلاکتوں کے بعد سکیورٹی حکام نے ان مظاہروں کو روکنے کے لیے کم از کم سات سو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

default

تین دن قبل شروع ہونے والے ان مظاہروں کے دوران کم ازکم چھ افراد ہلاک ہو چکےہیں۔ دوسری طرف قاہرہ حکومت کے پرانے اور بہت قریبی حلیف ملک امریکہ نے صدر حسنی مبارک پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں جمہوری اصلاحات عمل میں لائیں۔

اگرچہ حکومت نے دارالحکومت قاہرہ، بندر گاہی شہر سوئز اور دیگر حساس شہروں میں مظاہروں پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق جمعرات کو بھی حکومت مخالف مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین آنکھ مچولی جاری ہے۔ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق گزشتہ شب پولیس اور مظاہرین کے مابین تصادم کے نتیجے میں دو مزید افراد ہلاک ہوئے۔

Proteste in Kairo NO FLASH

مصری حکام نے مظاہروں پر پابندی عائد کر دی ہے

عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی فورسز مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے علاوہ طاقت کا استعمال بھی کر رہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ شب مظاہرین نے وزرات اطلاعات کی عمارت کے باہر کئی دُکانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

دوسری طرف بندرگاہی شہر سوئز میں مظاہرین نے حکومتی املاک کو نقصان پہنچایا۔ عینی شاہدین کے بقول اس دوران کئی عمارتوں کو نذر آتش کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ طبی ذرائع کے مطابق اب تک کم ازکم 55 مظاہرین جبکہ 15 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

بدھ کے دن وزرات داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا،’ کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

دھمکیوں اور پابندیوں کے باوجود مصری عوام سڑکوں پر آنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کر رہے ہیں۔ ایک نوجوان نے خبر رساں ادارے کو بتایا،’ ہم نے آغاز کر دیا ہے اور اب ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

Dossierbild Protest Ägypten Januar 2011 Bild 1

سکیورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرر ہی ہے

دوسری طرف امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے مصری ہم منصب حسنی مبارک کو ایک پیغام میں کہا ہے، ’ مصری حکومت کے پاس اس وقت ایک اہم موقع ہے کہ وہ عوام کی خواہشات کے مطابق سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی سطح پر اصلاحات عمل میں لائے تاکہ لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔‘

تیونس میں یاسمین انقلاب کے بعد اب دیگر ایسے ممالک میں حکومت مخالف مظاہرے دیکھنے میں آ رہے ہیں، جہاں حکمران طویل عرصے سے اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں۔ کئی ماہرین کے بقول تیونس کا یاسمین انقلاب لوگوں کے لیے ایک تحریک کا باعث ہے اور اب بالخصوص عرب ممالک میں عوام کا ردعمل ضرور بدلے گا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM