1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں حکومت مخالف احتجاج ، البرادئی بھی مظاہرین میں شامل

مصرمیں حکومت مخالف مظاہرے تیسرے روز بھی جاری رہے۔ اس دوران صدر حسنی مبارک کے منحرف اور نوبل انعام یافتہ محمد البرادئی نے مصر واپس پہنچنے پر ان مظاہروں میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔

default

تیونس کے یاسمین انقلاب کے بعد مصر میں شروع ہونے حکومت مخالف مظاہرے پر تشدد رنگ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ مظاہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اب حکومت کی بے جا طاقت کے سامنے وہ ہر گز نہیں جھکیں گے۔

ان مظاہروں کے مسلسل تیسرے دن جاری رہنے کے بعد مصری صدر حسنی مبارک کے پرانے اور قریبی ساتھی ملک امریکہ کے صدر باراک اوباما نے بھی یہ کہہ دیا ہے

Mohamed El Baradei

محمد البرادئی

کہ قاہرہ حکومت عوام کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے سیاسی اصلاحات عمل میں لائے۔ امریکی صدرباراک اوباما کی طرف سے جاری ہوئے ایک بیان میں فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں۔

مصر کی اس مخدوش سیاسی صورتحال میں البرادئی نے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ویانا سے واپس اپنے ملک پہنچنے پر انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ مصر میں سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کو یقینی بنانے کے لیے عوام کے ساتھ سڑکوں پر آئیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مصر میں عبوری حکومت کی قیادت کے لیے تیار ہیں۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارےIAEA کے سابق سربراہ البرادئی نے کہا کہ وہ نمازجمعہ کے بعد منعقد کیے جانے والے طے شدہ احتجاج میں مظاہرین کے شانہ بشانہ ہوں گے۔ مصری صدر حسنی مبارک کے کڑے ناقد البرادئی نے مزید کہا،’ یہ مخصوص وقت مصر کے لیے انتہائی اہم ہے۔ میں یہاں اس لیے آیا ہوں تاکہ عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر سکوں۔‘

دوسری طرف مصر کی مرکزی اپوزیشن پارٹی اخوان المسلمین نے پہلی مرتبہ اپنے ممبران کو مظاہروں میں شرکت کے لیے کہہ دیا ہے۔ آج نماز جمعہ کے بعد مصری دارالحکومت میں ایک بڑا مظاہرہ کرنے کا پروگرام طے ہے۔ تاہم اس صورتحال میں حکومت نے مظاہروں پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغاوت کرنے والوں کو کڑی سزا سنائی جائے گی۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمین کے دو اہم رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔

NO FLASH Ehemaliger IAEO-Generaldirektor Mohammed el-Baradei in Kairo

مصر میں حکومت مخالف مظاہرے شدید ہوتے جا رہے ہیں

فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کے مطابق گزشتہ تین روز سے جاری ان مظاہروں کے نتیجے میں کم زکم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اہک ہزار سے زائد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دریں اثناء مصری شہریوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں انٹر نیٹ کے استعمال میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ حکومت نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ پر جزوی پابندی کے علاوہ انٹر نیٹ مہیا کرنے والی بیشتر نجی کمپنیوں کو عارضی طور پر کام کرنے سے روک دیا ہے، جس کی وجہ سے مصری عوام کو انٹر نیٹ کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM