1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں حکمراں جماعت پارلیمانی انتخابات جیت گئی

مصری صدر حسنی مبارک کی برسر اقتدار جماعت نے پارلیمانی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ اپوزیشن اور آزاد معائنہ کاروں نے انتخابی عمل میں وسیع تر بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کئے ہیں۔

default

مصری صدر حسنی مبارک

مرکزی اپوزیشن سیاسی جماعت اخوان المسلمون نے اتوار کو منعقد ہوئے انتخابات کا بائیکاٹ کیا، یہ جماعت گزشتہ اتوار منعقد ہوئے پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کسی نشست پر بھی کامیابی حاصل نہ کر سکی تھی۔ گزشتہ پارلیمان میں اپوزیشن کی دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت’وفد پارٹی‘ نے بھی فراڈ اور دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

سرکاری نتائج کے مطابق بیاسی سالہ حسنی مبارک کی حکمران جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی این پی ڈی نے83 فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ این پی ڈی نے دس فیصد زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ دوحہ بروکنگز سینٹر سے وابستہ تجزیہ نگار شادی حامد نے مصر کے انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے رد کر دیا،’ سن 2010ء کے انتخابات، مصر کی جدید تاریخ میں یقینی طور پر سب سے زیادہ غیر قانونی انتخابات ہیں۔ اس انتخابی عمل کو کوئی بھی سنجیدہ نہیں لے سکتا۔‘

NO FLASH Wahlen in Ägypten

ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہی

حالیہ انتخابات میں مجموعی طور پر 508 نشستوں پر مقابلہ ہوا، جن میں سے 420 پر نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کو کامیابی ملی۔ 70 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے جبکہ 14 پر دیگر سیاسی جماعتوں نے کامیابی حاصل کی۔ چار نشستوں پر انتخابات کے دوران پر تشدد واقعات کی وجہ سے مقابلہ نہ ہو سکا۔ مصری پارلیمان میں کل نشستوں کی تعداد 518 ہے، ان میں سے دس نشستوں پر صدر اپنے منتخب امیدوار نامزد کرنے کا مجاز ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کی شرح 35 جبکہ دوسرے میں 27 فیصد رہی۔ دوسری طرف آزاد اورغیرجانبدار گروپوں کے مطابق دونوں مرحلوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح بالتریب دس اور پانچ فیصد رہی۔ غیرجانبدار مبصرین کے مطابق ان انتخابات کے دونوں مرحلوں میں ہر طرح کی دھاندلی نوٹ کی گئی، جن میں جعلی ووٹ ڈالنے اورغلط گنتی کے ساتھ ساتھ ووٹروں کو ڈرانےدھمکانے کے علاوہ دیگر بے ضابطگیاں بھی شامل ہیں۔

NO FLASH Ägypten Christen Tote bei Protesten

انتخابات کے دوران دھاندلی کے الزامات عائد کئے گئے اور مظاہرے بھی ہوئے

اپوزیشن پارٹیوں اور آزاد معائنہ کاروں نے ان انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے انتخابات منعقدکروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے شادی حامد نے خیال ظاہر کیا ہےکہ اس مرتبہ پارلیمان میں شاید اپوزیشن موجود ہی نہیں ہوگی۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعت اس مرتبہ 518 نشستوں والی پارلیمان میں سب سے بڑی اپوزیشن ہو گی، اس جماعت نے پانچ نشستوں پر کامیاب حاصل کی ہے۔ مصر میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سن 2010 ءکے انتخابات نے مصر کو پندرہ برس پیچھے دھکیل دیا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM