1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں جمہوری حکومت کے قیام کی کوششیں

مصرکی فوجی کمان نے ایک کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ سابق ججوں پر مشتمل اس کمیشن کو د س روز کے اندر ملکی آئین میں اصلاحات کرنےکی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

default

اس کمیشن میں ملکی صدر کی مدت صدارت کو محدود کرنے پر سب سے زیادہ توجہ دی جائے گی۔ مصر میں جمہوریت اور آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی کامیابی کے بعد اب نئی حکومت کی تشکیل کی کوششوں میں کچھ تیزی دکھائی دینا شروع ہوگئی ہے۔

ملک کی فوجی کمان کی جانب سے آئین میں اصلاحات لانے کے لیے کمیٹی کا قیام، اقتدار جلد ازجلد منتخب حکومت کے حوالے کرنے کی عزم اور انتخابات کے لیے ایک نگران کمیٹی کا قیام اس کی واضح مثالیں ہیں۔

Flash-Galerie Ende Hosni Mubarak Ära Porträt

سابق صدر مبارک کی صحت سے متعلق متضاد خبریں موصول ہورہی ہیں

آئینی اصلاحات کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کی نگرانی ریاستی کونسل کے سابق سربراہ البشیری کر رہے ہیں۔ انہیں اس وقت مصر میں خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔

مصر میں اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی صوبہی صالح کے بقول فوج اقتدار جلد از جلدسویلین منتخب حکومت کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ ایک اور اپوزیشن رہنما محمد مرثی نےکہا ہے کہ اخوان المسلمین جلد ہی باقاعدہ ایک سیاسی جماعت کے طور پر کام شروع کردے گی۔ مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے دور میں اس جماعت پر پابندی تھی۔

امریکی صدر باراک اوباما نے مصر کی فوجی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ جمہوریت کے فروغ سے متعلق اپنے وعدوں کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مصر کو جمہوری اداروں کے قیام اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیےبین الاقوامی برادری کی تعاون کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے صحت کے بارے میں متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں کے دوران حسنی مبارک کی طبعیت کافی ناساز رہی اور وہ کئی مرتبہ بے ہوش بھی ہوئے۔ قاہرہ سے شائع ہونے والے دو اخباروں کے مطابق سابق صدر نے ادویات لینا بھی ترک کر دیا ہے اور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہےکہ وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے ان خبروں کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔

Ägypten Kairo Proteste

نائب صدر عمر سلیمان اس وقت حکومتی امور کی نگرانی کر رہے ہیں

حسنی مبارک صدارت سے علیحدہ ہونے کے بعد سے تفریحی مقام شرم الشیخ میں اپنے محل میں مقیم ہیں۔

مصر میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سے ابھی تک کئی سو افراد لاپتہ ہیں۔ انسانی حقوق کے ایک کارکن نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ان میں بہت سے افراد فوج کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے فوج سے مطالبہ کیا کہ ان افراد کی فہرست منظر عام پر لائی جائے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM