1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں تبدیلی: ملکی اور بین الاقوامی ردعمل

حسنی مبارک کے استعفے کے بعد مصری شہری خوشی سے سرشار سڑکوں پر والہانہ جشن منا رہے ہیں۔ اس تاریخی موقع پر اقوام عالم کی جانب سے مصری عوام کو مبارکباد کے پیغامات بھی مل رہے ہیں۔

default

اب مصر کبھی پہلے جیسا نہیں ہو گا، اوباما

جمعہ کی شام جیسے ہی حسنی مبارک کے استعفے سے متعلق اعلان کیا گیا، لوگ دفتروں اور گھروں سے باہر نکل آئے اور سڑکوں پر مسرت کے اظہار کے میلے سج گئے۔ 30 برس تک کی عمر والے مصری نوجوانوں نے تو اپنے ملک میں کوئی اور حکمران دیکھا ہی نہیں تھا۔ لہٰذا اس تبدیلی سے انہیں بہت زیادہ امیدیں ہیں۔

اس موقع پر دارالحکومت قاہرہ کے التحریر چوک میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور فضا اللہ اکبر کے نعروں اور مصری قومی ترانے کی آوازوں سے گونج رہی تھی۔

Schweiz Wirtschaft Weltwirtschaftsforum in Davos Arabische Liga China

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسیٰ

مصر کی واحد منظم اپوزیشن پارٹی اخوان المسلمین نے حسنی مبارک کے استعفے کا سہرا مصری عوام کے سر باندھا ہے۔ اس تنظیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار اعصام الا یریان نے فوج کو بھی وعدہ وفا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ محمد البرادعی نے مصر کو ’ایک آزاد اور خود دار قوم‘ کا نام دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر مصر میں جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی قوتوں نے بھی یہ موقع ضائع ہونے نہیں دیا۔ امریکی صدر باراک اوباما کے بقول مصری عوام نے جمہوریت کی قدر و قیمت ثابت کر دی ہے تاہم اب بھی بہت سے سوالوں کے جواب باقی ہیں۔ ’’فوج نے اپنی ذمہ داریاں وفادارانہ طور پر ادا کر دی ہیں، اب انہیں اقتدار کی ایسی منتقلی کو ممکن بنانا ہوگا، جس کی مصری عوام کی نظر میں قدر ہو۔‘‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اقتدار کی پر امن اور منظم منتقلی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یورپی یونین نے حسنی مبارک کے فیصلے کو سراہا ہے۔ یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کے بقول اب ضروری ہے کہ مذاکراتی سلسلہ تیز کر کے وسیع قومی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے بقول یہ ایک تاریخی موقع ہے۔ چانسلر میرکل نے کہا کہ وہ مصری عوام کی خوشیوں میں ان کے ساتھ شریک ہیں۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن کے بقول مصر خطے میں نیٹو کا ایک بہت اہم اتحادی ہے۔ انہوں امید ظاہر کی کہ مصر خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے ایک بڑی قوت بنا رہے گا۔

Angela Merkel mit Hosni Mubarak

جرمن چانسلر نے کہا ہے کہ وہ مصری عوام کی خوشیوں میں شریک ہیں

اسرائیل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فی الحال صورتحال واضح نہیں، تاہم امید ہے کہ مصر کے ساتھ دو طرفہ امن معاہدہ برقرار رہے گا۔

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسیٰ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مصر میں اس سفید انقلاب کے بعد نئے امکانات کے لیے ایک کھڑکی کھل گئی ہے۔ خود امر موسیٰ کا تعلق بھی مصر ہی سے ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نئے مصری صدر بننے کے لیے تیار ہیں، تو امر موسیٰ نے جواب دیا، ’’یہ وقت ایسے سوالات کا نہیں، میں اپنے ملک کی خدمت کرنے میں فخر محسوس کروں گا۔‘‘

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM