1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں تازہ مظاہروں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ

شمال افریقی ریاست مصر میں نیا عوامی احتجاجی سلسلہ تیسرے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں میں 30 سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

default

فروری میں سابق صدر حسنی مبارک کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے والے عوامی احتجاج کا رخ اب بظاہر ملکی فوج کی جانب ہو چکا ہے۔ انقلابِ مصر کے مرکز، قاہرہ کے التحریر چوک میں ہزاروں مظاہرین سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قاہرہ میں برسر اقتدار فوج فوری طور پر حکومتی ذمہ داریاں سویلین حکومت کے حوالے کرے۔ ملکی فوج اور پولیس ان مظاہرین کو التحریر اسکوائر سے بے دخل کرنے کے لیے لاٹھی چارج ، آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کا استعمال کر چکی ہے۔ اس کے باوجود پیر کو تیسرے روز بھی التحریر چوک پر مظاہرین کے جُھنڈ نظر آئے۔

تازہ مظاہروں کا سلسلہ ہفتے کے روز شروع ہوا جب مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے التحریر چوک پر ملکی فوج کے خلاف پر امن مظاہرہ کیا جسے اتوار اور پھر آج پیر تک دوام دیا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نمائندے نے بتایا کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس اور فوج پر پتھراؤ کرنے کے علاوہ پٹرول بم بھی پھینکے گئے۔ اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی میں شارٹ گن اور ربر کی گولیوں کا استعمال بھی دیکھنے میں آیا۔

مصر کی تازہ صورتحال پر بین الاقوامی برادری نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ وہ مصر میں انسانی حقوق کے احترام کی ضمانت چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں سکیورٹی فورسز کا احتساب بھی شامل ہے۔

Superteaser NO FLASH Ägypten Militärrat Feldmarschall Mohammed Hussein Tantawi

مصر کی فوجی قیادت نے صدارتی انتخاب کے بعد اقتدار سے علیٰحدہ ہوجانے کا اعلان کر رکھا ہے

مصر ی محکمہء صحت نے مظاہروں کے نئے سلسلے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق یہ ہلاکتیں التحریر چوک اور بعض دیگر شہروں میں ہفتے کے دن اور اس کے بعد ہوئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ قاہرہ کے علاوہ اسکندریہ اور سوئز جیسے شہروں میں بھی سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مصر کی فوجی انتظامیہ نے 28 نومبر کو پارلیمانی انتخابات کا وعدہ کر رکھا ہے مگر موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایسے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ تشدد کا نیا سلسلہ انتخابات کے انعقاد پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہ انتخابات حسنی مبارک کے 30 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد مصر میں ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔ مصر میں عبوری مدت کے لیے برسر اقتدار کابینہ نے گزشتہ روز ایک ہنگامی اجلاس کے بعد یہ عزم ظاہر کیا تھا کہ پارلیمانی انتخابات وقت پر ہوں گے۔ ملکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب کے بعد اقتدار سویلین حکومت کو منتقل کر دے گی۔ یاد رہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے فی الحال کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM