1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مصر میں بے یقینی کے بادل اور بھی گہرے ہو گئے

مصری صدر حسنی مبارک نے عہدہ نہ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت مخالف مظاہرین کو مایوس کر دیا ہے، جو ان کے تین دہائیوں پر محیط اقتدار کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

default

اس صورت حال میں مصر میں دو ہفتے سے زائد عرصے سے جاری مظاہرے اور بھی پرتشدد رخ اختیار کر سکتے ہیں اور اس حوالے سے وہاں کی فوج کا کردار انتہائی اہم ہو گا۔

حالانکہ جمعرات کی شب حسنی مبارک نے یہ تو کہا کہ وہ اختیارات نائب صدر عمر سلیمان کو منتقل کر رہے ہیں، تاہم یہ ابھی تک غیر واضح ہے کہ دراصل حکمران کون ہے۔

تجزیہ کار حسن نافع نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ مبارک نے استعفیٰ نہیں دیا، صدر اہم اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور جو انہوں نے منتقل کر بھی دیے ہیں، انہیں وہ واپس بھی لے سکتے ہیں۔

نافع نے کہا، ’سلیمان پارلیمنٹ کو تحلیل نہیں کر سکتے، وہ کابینہ میں رد و بدل نہیں کر سکتے اور یہاں تک کہ صدر کے ساتھ اتفاق رائے کے بغیر آئینی اصلاحات کی بات بھی نہیں کر سکتے۔‘

اس تجزیہ کار نے کہا، ’اقتدار کی باگ ڈور مبارک کے ہاتھ میں ہے اور وہ جب چاہیں سلیمان سے جزوی صدارتی اختیارات واپس بھی لے سکتے ہیں۔‘

Ägypten Kairo Proteste

مظاہرین حسنی مبارک سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں

دوسری جانب مظاہرین نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مبارک کے اقتدار سے علیٰحدہ ہونے تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ ابھی تک فوج مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش نہیں کر رہی، تاہم پرتشدد مظاہروں کے دوارن اسے مبارک کی وفاداری یا احتجاج کرتے ہوئے اپنے ہم وطنوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔

سٹی یونیورسٹی لندن میں مشرقِ وسطیٰ کے امور کی پروفیسر روزمیری ہولس نے آئندہ دنوں میں حالات زیادہ بگڑ جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’مظاہرین بہت مایوس ہیں اور تشدد کے واقعات رونما ہوں گے۔ یوں فوج کو ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہونا پڑے گا۔‘

قبل ازیں جمعرات کو فوج کی اعلیٰ کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں حسنی مبارک شریک نہیں ہوئے۔ اس بارے میں قاہرہ میں موجود تجزیہ کار نبیل عبدالفتح کا کہنا ہے، ’فوج کا اجلاس مبارک کے بغیر ہوا حالانکہ وہ مسلح افواج کے سربراہ ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اقتدار فوج کے پاس چلا گیا ہے۔‘

مصری اور مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق مبارک کی تقریر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ حالات کی نزاکت سمجھنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ حسنی مبارک کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے جاری عوامی احتجاج کے باعث مصر بے یقینی کا شکار ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس