1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں بھی حکومت مخالف مظاہرے متوقع

مصر میں حکومت مخالف گروپوں کی جانب سے منگل کو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں، جن کے منتظمین نے تشدد، غربت، بدعنوانی اور بے روزگاری کے خلاف آواز اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

default

قاہرہ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ایسے مظاہروں کے شرکاء کو گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ساتھ ہی حکام نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ اسی روز حکومت کے حق میں ریلیاں نکالیں۔

مصر میں پیشگی اجازت کے بغیر مظاہروں کی اجازت نہیں جبکہ اپوزیشن گروپوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس مقصد کے لئے اجازت نامے نہیں دیے گئے۔

مظاہروں کے منتظمین نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’25 اکتوبر کا ہمارا احتجاج ایک انجام کی ابتدا ہے۔‘

یہ مظاہرے بنیادی طور پر مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منعقد کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے اور منتظمین اس سلسلے میں عوام کو متحرک کرنے کے لیے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بُک کا استعمال کر رہے ہیں۔

منتظمین کا کہنا ہے، ’یہ خاموشی کا انجام ہے، مصر کی تاریخ میں یہ ایک نئے باب کا آغاز ہو گا، جس میں ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ مصر کے نوجوانوں کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، جو غربت اور گھٹن سے تنگ آ چکے ہیں۔

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قاہرہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پرامن مظاہروں کی اجازت دی جائے۔

Hosni Mubarak Afrikanische Union Gipfel in Scharm el Scheich Ägypten

مصر کے صدر حسنی مبارک

روئٹرز کا کہنا ہے کہ منگل کے مظاہروں سے طے ہو جائے گا کہ انٹرنیٹ پر چلائی گئی سرگرم تحریک عوام کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

خیال رہے کہ مصر میں منگل کو پولیس کے اعزاز میں قومی تعطیل ہے۔ دراصل یہ فورس ہی گزشتہ 30 برس سے مصری صدر حسنی مبارک کا اقتدار قائم رکھے ہوئے ہے۔

حکومت مخالف گروپوں کی جانب سے یہ مظاہرے تیونس میں حالیہ شورش اور اس کے نتیجے میں حکومت گرنے کے تناظر میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ وہاں ہفتوں جاری رہنے والے مظاہروں کے نتیجے میں زین العابدین بن علی کو طویل اقتدار کے بعد صدارت چھوڑ کر ملک سے فرار ہونا پڑا۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس