1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں این جی اوز کے دفاتر پر چھاپے، عالمی برادری کی مذمت

مصر میں استغاثہ اور پولیس نے انسانی حقوق اور جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے سترہ مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں کے دفاتر پر چھاپے مارے ہیں۔ ان میں سے کئی ادارے امریکی تعاون سے چلائے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنان کے حوالے سے بتایا ہے کہ مصری فوجی قیادت کی طرف سے نئی کارروائی دراصل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی ہے۔ مصری حکام کی طرف سے کی گئی اس کارروائی کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر پر چھاپوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے، ’گزشتہ کئی سالوں سے ہماری مصری حکومت کے ساتھ جو باہمی تعاون کی روایت چلی آ رہی ہے، یہ کارروائی اس سے مطابقت نہیں رکھتی‘۔ واشنگٹن حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ مصری حکومت اگر ایسی کارروائیاں جاری رکھتی ہے تو اسے عسکری مد میں دی جانے والی 1.3 بلین ڈالر کی مالی امداد کو روکنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن حکومت نے قاہرہ پر زور دیا ہے کہ غیر سرکاری اداروں این جی اوز میں کام کرنے والے اہلکاروں کو ’حراساں‘ کرنے کا عمل فوری طور پر روک دیا جائے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا کہ اگر مصر میں صورتحال بہتر نہیں ہوتی تو کانگریس سے قاہرہ حکومت کے لیے عسکری مالی امداد کو پاس کروانے کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

aegypten ngo mitarbeiter kairo ägypten

قاہرہ میں نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ پت چھاپے کے وقت وہاں کے اہلکار

جرمن حکومت کی طرف سے جاری ہوئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ قاہرہ کی اس کارروائی پر برلن میں تعینات مصری سفیر کو طلب کر کے وضاحت مانگے گی۔ پولیس نے جن سترہ غیر سرکاری اداروں کے دفاتر پر چھاپے مارے ہیں، ان میں جرمن ادارہ Konrad Adenauer فاؤنڈیشن بھی شامل ہے۔

سابق مصری صدر حسنی مبارک کو اقتدار سے الگ کرنے کے لیے مصر میں انسانی حقوق کے اداروں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اب بھی فوجی قیادت کے خلاف جاری مظاہروں میں انسانی حقوق کی تنظیمیں پیش پیش ہیں۔ یہ تنظیمیں شروع سے ہی فوجی حکومت کی طرف سے مظاہرین کے خلاف کی جانے والی پر تشدد کارروائیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں۔

مصر کی سرکاری خبر ایجنسی MENA نے بتایا ہےکہ ان غیر سرکاری اداروں پر چھاپے مارنے کی وجہ وہ شکایات ہیں، جن کے مطابق یہ تنظیمیں غیر ملکی فنڈز میں خرد برد میں ملوث ہیں۔ مصری دفتر استغاثہ نے کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے کی گئی یہ کارروائی ملکی قوانین کے مطابق ہے۔

جن اداروں کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے ہیں، ان میں امریکی امداد سے چلنے والے ادارے ’انٹرنیشنل ریپبلک انسٹی ٹیوٹ‘ IRI اور ’نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ‘ NDI بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس نے چھاپوں کے بعد ان اداروں میں موجود کمپیوٹر اور تمام دستاویزات اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔

مصر میں انسانی حقوق کے نمایاں اہلکار نجاد البرعی نے کہا، ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کارروائی انسانی حقوق کے تحفظ کرنے والوں کے خلاف کی گئی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں حسنی مبارک کے دور اقتدار میں بھی ہوتی رہی تھیں ، ’جسے ہم انقلاب کہہ رہے ہیں، اس کے بعد ایسی کارروائی نے مجھے حیران کر دیا ہے‘۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس