1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں اکتیس افراد کو موت کی سزا سنا دی گئی

ایک مصری عدالت نے ملکی مستغیث اعلی کے قتل کے واقعے میں ملوث ہونے کے جرم میں اکتیس افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔ حشام برکات  کو دو سال قبل قتل کیا گیا تھا۔

مصر کے سرکار ی ٹیلی وژن کے مطابق قاہرہ کی فوجداری عدالت کے جج حسن فرید نے اپنے فیصلے میں لکھا، ’’مستغیث اعلی حشام برکات کے سفاکانہ قتل میں بیرونی ہاتھ کا سہارا لیا گیا۔ اس واقعے میں بدعنوان اور کمزور شیطانی قوتوں نے یہ ظالمانہ سازش تیار کی۔ یہ ایک ایسی تنظیم یا گروہ کا کام ہے، جس کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔‘‘

عدالت نے اس سلسلے میں بائیس جولائی کو تفصیلی فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔ عدالت نے ان افراد کو سزائے موت دینے کے اپنے فیصلے کی توثیق کے لیے اسے ملک کی سب سے بڑی مذہبی اتھارٹی کے سپرد کر دیا ہے تاکہ مفتی اعظم کی جانب سے بھی اس فیصلے کے حوالے سے شرعی حیثیت معلوم کی جا سکے۔ بائیس جولائی کو سامنے آنے والے فیصلے کے خلاف اپیل بھی کی جا سکتی ہے۔

حشام برکات اپنے قافلے پر ہونے والے کار بم حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ قاہرہ میں رونما ہونے والے اس واقعے میں کالعدم اخوان المسلمون اور غزہ میں بر سر اقتدار حماس کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔ تاہم یہ دونوں گروپ اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔

جن افراد کے لیے اس سزا کا اعلان کیا گیا ہے ان میں سے صرف نصف اس وقت حکام کی تحویل میں ہیں۔ اس سلسلے میں مصری وزارت داخلہ نے ایسی کئی ویڈیو جاری کی تھیں، جن میں مختلف نوجوانوں کو اس قتل میں ملوث ہونے اور حماس کے زیر انتظام تربیت حاصل کرنے کا اقرار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں ان میں سے زیادہ تر عدالت میں اس واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کر دیا تھا۔