1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں امریکی خاتون رپورٹر پر ہجوم کا جنسی حملہ

امریکی ٹی وی نیٹ ورک CBS کے مطابق ان کی خاتون غیر ملکی نامہ نگار لارا لوگن کو حُسنی مبارک کے زوال کی کوریج کے دوران مصر میں ہجوم نے وحشیانہ جنسی حملے کا نشانہ بنایا ہے۔

default

آج منگل کے روز CBS کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 39 سالہ لارا لوگن گزشتہ جمعے کے روز حُسنی مبارک کے عہدہ صدارت سے استعفیٰ دینے کے بعد قاہرہ کے التحریر چوک میں جمع ہونے والے ہجوم کے باعث اپنے عملے سے بچھڑ گیں تھیں۔ بیان کے مطابق، ’’لوگن اپنے عملے کے علاوہ سکیورٹی پر مامور افراد کے ساتھ التحریر چوک میں جشن منانے والوں کے درمیان خطرناک صورتحال میں گھِر گئی تھیں۔ وہ کوئی 200 سے زائد افراد کا جنونی مجمع تھا۔ لوگن اس ہجوم کے رش میں اپنے عملے سے بچھڑ گئی تھیں۔‘‘

Logo CPJ

CPJکے مطابق مصر میں کوریج کے دوران اب تک 140 صحافی یا تو ذخمی ہو گئے ہیں یا مارے جا چکے ہیں۔

CBS کے مطابق ’’ لوگن کو گھیرے میں لے لیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں وحشیانہ طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ مارا پیٹا گیا۔ تاہم خواتین کے ایک گروہ اور ایک اندازے کے مطابق 20 مصری اہلکاروں نے ان کو بچا لیا۔‘‘ بیان کے مطابق اس واقعے کے اگلے روز انہیں امریکہ روانہ کر دیا گیا، جس کے بعد وہ اسپتال میں داخل ہیں اور اب صحت یاب ہو رہی ہیں۔

نیویارک میں قائم صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے والی کمیٹی CPJ کے مطابق 30 جنوری سے مصر میں ہونے والے مظاہروں کی کوریج کے دوران 140 رپورٹرز یا تو مارے جا چکے ہیں یا پھر زخمی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگن پر ہونے پر ہونے والے حملے کی خبر نے ان کو چوکنا کر دیا ہے۔ CPJ کے چیئرمین پال سٹائگر نے لوگن کو ایک بہادر، اپنے کام میں دیانتدار اور زبردست رپورٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے کام کے دوران لارا کا تشدد کا نشانہ بنے والے صحافیوں کی مدد کرنے کے والہانہ جذبے کو دیکھا ہے ۔

جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والی لوگن عراق اور افغانستان کے حوالے سے اپنی رپورٹنگ کے باعث امریکی میڈیا میں مشکل اور جنگی حالات میں رپورٹنگ کرنے والی نامہ نگار کے طور پر جانی پہچانی جاتی ہیں۔ وہ CBS نیوز کے لیے سن 2006 سے غیر ملکی نامہ نگار کے طور پر کام کر رہی تھیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM