1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں الجزیرہ کی نشریات بند کردی گئیں

مصر میں الجزیرہ کی نشریات بند کردی گئی ہے۔ قطر میں قائم یہ ٹیلی وژن چینل تیونس کی طرح مصر میں بھی حکومت مخالف مظاہروں کی مسلسل براہ راست نشریات پیش کر رہا تھا۔

default

الجزیرہ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قاہرہ حکومت کا یہ عمل، ’’ مصری عوام کی آواز دبانے‘ کے مترادف ہے۔ الجزیرہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مصر میں انہیں رپورٹ کی آزادی سے محروم کیا جارہا ہے۔

مصر کے سرکاری خبر رساں ادارے مِینا کے مطابق مستعفی ہونے والے سابق وزیر اطلاعات پہلے ہی الجزیزہ کے کارکنوں کے صحافتی اجازت نامے واپس لینے، چینل کا لائسنس منسوخ کرنے اور اس کی ہر قسم کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا حکم جاری کر چکے تھے۔

Tunesien Unruhen Demonstration Ben Ali Tunis mit Text

تیونس میں انقلابِ یاسمین کے ایک مظاہرے کا ایک منظر

قاہرہ حکومت کی جانب سے الجزیرہ پر پابندی لگائے جانے کی کوئی باضابطہ وجہ پیش نہیں کی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق الجزیزہ کا رویہ، حکومت مخالف مظاہرین کی جانب ہمدردانہ ہے۔

الجزیرہ کا کہنا ہے کہ مصری معاشرے کی حالیہ شورش زدہ صورتحال میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ دونوں اطراف کی آواز سنی جائے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ الجزیرہ کی کوریج کی وجہ سے مظاہرین کو شہ مل رہی ہے اور وہ مزید سرگرم ہوتے جارہے ہیں۔ الجزیرہ کو کئی ممالک میں اس طرح کی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ مصر سے قبل عراق اور سعودی عرب میں بھی اس کی نشریات بند کی گئی تھیں۔

George Bush im Fernsehen Al Jazeera in Irak Reaktionen

الجزیرہ کو عرب ممالک میں خاصی پزیرائی حاصل ہے

قطر کے امیر شیخ حامد بن خلیفہ کی جانب سے 137 ملین ڈالر کے قرض سے 1996ء میں الجزیرہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ الجزیرہ کی مقبولیت میں اس وقت اضافہ ہوا جب اس نے 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر کیے گئے حملوں کو براہ راست نشر کیا تھا۔ اس کے بعد القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے ویڈیو پیغامات عام کرنے کی پاداش میں الجزیرہ کو مغربی دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

وقت کے ساتھ الجزیرہ محض عربی زبان تک محدود نہیں رہا اور انگریزی میں بھی نشریات پیش کرنے لگا۔ اس وقت اسے بی بی سی اور سی این این کا ہم پلہ نشریاتی ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان

DW.COM