1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں اقتدار کی منتقلی کے لیے امریکہ کا دباؤ

امریکی صدر باراک اوباما نے مصر کے صدر پر اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے زور دیا ہے جبکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مصری عوام کی سربلندی اور اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے کہا ہے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما نے مصر کے صدر حسنی مبارک پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں جاری بدامنی کے خاتمے لے لیے ’صحیح فیصلہ‘ کریں۔ واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں اوباما نے کہا کہ پوری دنیا مصر کی طرف دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے مصر کے صدر حسنی مبارک کے فوری استعفے کا تو مطالبہ نہیں کیا لیکن انہوں نے کہا کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل فوری طور پر شروع ہونا چاہیے۔

Ägypten Kairo Proteste Hosni Mubarak

مصر کے صدر حسنی مبارک

قبل ازیں مصر میں صدر حسنی مبارک کے خلاف مسلسل عوامی مظاہرے گیارھویں دن بھی جاری رہے اور جمعہ کو صدر حسنی کا ’یوم رخصت‘ منایا گیا۔ مظاہرین گزشتہ کئی دنوں سے صدر کو اقتدار چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں۔

تاہم صدر مبارک ابھی تک یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ صدارت سے مستعفی توہو سکتے ہیں مگر فوری طور پر ان کے ایسا کرنے سے ملک مزید انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ مصر میں ان مظاہروں کے دوران اب تک 300 افراد ہلاک اور پینتیس سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ صرف گزشتہ دو روز کے دوران ہلاک شدگان کی تعداد آٹھ اور زخمیوں کی تعداد 800 سے زیادہ رہی۔

مبارک انتظامیہ کی طرف سے نائب صدر عمر سلیمان اپوزیشن کے سب سے بڑے گروپ اخوان المسلمین کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، جو اس گروپ نے مسترد کر دی ہے۔ اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ اس کا مطالبہ صدر مبارک کا استعفیٰ ہے، اور جیسے ہی یہ واحد مطالبہ پورا ہوا، مذاکرات شروع کر دیے جائیں گے۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مصری عوام کو سربلند کرنے اور اسلامی ریاست تشکیل دینے کے لیے کہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1979ء میں آنے والے انقلاب ایران جیسے زلزلے کی لہریں اب عرب ممالک تک بھی پہنچ رہی ہیں۔

NO FLASH Obama Rede zur Lage der Nation 2011

امریکی صدر باراک اوباما

ایران کے انتہائی طاقتور لیڈر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر عرب ممالک میں عوامی بغاوت کامیاب ہو جاتی ہے تو اس خطے میں جاری امریکی پالیساں ناکام ہو جائیں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس انقلاب سے اسرائیل سب سے زیادہ پریشان ہے کیونکہ اس کا مصر کے ساتھ اتحاد ختم ہو سکتا ہے۔

ایرانی لیڈر نے عرب عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ تب تک پیچھے نہ ہٹیں جب تک وہاں کی حکومتیں مذہبی بنیادوں پر کھڑی نہیں ہو جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ مصر میں علماء کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جب مساجد سے لوگ نعرے لگاتے ہوئے باہر نکلیں گے تو مصری عوام کے ساتھ ساتھ وہاں کی فوج بھی ان کا ساتھ دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصری فوج کی اصل دشمن اسرائیلی حکومت ہے نہ کہ مصری عوام۔

ادارت: امتیازاحمد

رپورٹ: ندیم گِل

DW.COM