1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’مصر میں اقتدار اسلام پسندوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے‘

مصر میں جاری احتجاج میں سب سے اہم کردار اپوزیشن جماعت اخوان المسلمین کا ہے۔ مصری عوام میں گہری جڑیں رکھنے والی اس اسلام پسند جماعت کی بنیاد 1929ء میں رکھی گئی تھی۔

default

مصر اور مغرب میں بعض لوگ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ یہ جماعت مصر میں جاری بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار میں آسکتی ہے اور ملک بھر میں مذہبی نظریات کو مسلط کر دیا جائے گا۔

مصر میں یہ جماعت نہ صر ف مذہبی پروگراموں کا انعقاد کرتی ہے بلکہ اس کے سمجاجی منصوبے بھی کامیاب رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کے پیروکاروں کی تعداد دوسری تنظیموں کی نسبت زیادہ ہے۔ تاہم ملک میں جاری مظاہروں میں اس تنظیم نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر لبرل اور امن انعام یافتہ محمد البرادعی کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری طرف البرادعی نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اس تنظیم کی حمایت اور سیاست میں آنے پر انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔

سرکاری طور پر مصر میں اس تنظیم پر پابندی عائد ہے تاہم 2005 ء کے پارلیمانی انتخابات میں اس تنظیم کی طرف سے آزاد امیدواروں نے حصہ لیا تھا اور ان کو 20 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ نومبر دو ہزار دس کے انتخابات میں یہ جماعت ایک سیٹ بھی جیتنے میں ناکام رہی۔ سن دوہزار پانچ میں اخوان المسلمین کے اس وقت کے رہنما محمد مہدی اکیف نے کہا تھا، ’ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے لیکن ہم اس سے جنگ بھی نہیں کریں گے۔ ہم ان تمام معاہدوں، جن پر مصر اور اسرائیل کے دستخط ہو چکے ہیں، کا احترام کریں گے۔‘

مصر وہ پہلا عرب ملک تھا، جس نے اسرائیل کے ساتھ 1979ء میں امن معاہدہ کیا تھا۔ اسرائیل نے اس معاہدے پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں عرب دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے ملک سے تعلقات استوار کرنے پر خوشی ہے۔

NO FLASH Ägypten Kairo Proteste El Baradei

محمد البرادعی

اخوان المسلمین جماعت صرف مصر تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کی شاخیں کئی عرب ملکوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ فلسطینی علاقوں میں یہ تنظیم حماس کے انتہائی قریب سمجھی جاتی ہے۔ محمد مہدی نے ایک مرتبہ یہ بھی کہا تھا کہ وہ کسی طور پر بھی کسی مسیحی یا خاتون کو اس ملک کے سربراہ کے طور پر تسلیم نہیں کریں گے۔ تاہم حال ہی میں ایک عربی ٹیلی وژن العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے یہ بیان بہت ہی پرانے ہیں۔ اب علاقے اور خطے کی صوتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے اور ان کے خیالات بھی بدل چکے ہیں۔

گزشتہ برس محمد بیدی کو اخوان المسلمین کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا اور ابھی تک ان کا کوئی بھی سیاسی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔ لگتا یوں ہے کہ یہ جماعت اپنے قیام کے 80 برس بعد بھی یہ نہیں جانتی کہ اسے کیا کرنا ہے اور کونسی حکمت عملی اختیار کرنی ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM