1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مصر میں اخوان المسلمون کا نیا انتخابی نام، ایک مسیحی پارٹی کا نائب سربراہ

مصر میں اخوان المسلمون نے آئندہ انتخابات کے حوالے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ الیکشن کے لیے نئے نام کا انتخاب کیا گیا ہے اور پارٹی نے ایک مسیحی دانشور کو نائب سربراہ کے طور پر منتخب کیا ہے۔

default

فریڈم اور جسٹس پارٹی کے لیڈر سعد القطانی

اخوان المسلمون فریڈم اور جسٹس پارٹی کے نام سے مصر میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ انتخابات کے تیاریوں کے سلسلے میں پارٹی کو منظم کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں صرف ایک مسیحی دانشور ہی نہیں بلکہ 100 سے زائد قبطی مسیحی بھی فریڈم اور جسٹس پارٹی کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل ہیں۔ پارٹی کے سرکردہ نمائندے سعد القطانی نے بتایا کہ اس وقت قریب ایک ہزار خواتین بھی پارٹی میں شمولیت اختیار کر چکی ہیں۔

القطانی کے بقول اس وقت ممبران کی تعداد تقریباً نو ہزار تک پہنچ گئی ہے، جس میں 978 خواتین اور 93 قبطی مسیحی ہیں۔

Muslimbruderschaft Ägypten Pressekonferenz

اخوان المسلمون 17جون سے فریڈم اور جسٹس پارٹی کے نام سے سیاسی سرگرمیاں شروع کر دے گی

مسیحی دانشور رفیق حبیب کے انتخاب کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں نائب صدر اس لیے نہیں بنایا گیا ہے کہ وہ ایک کرسچن ہیں بلکہ ایک عظیم دانشور ہونے کے ناطے وہ پارٹی کے لیے ایک سرمائے سے کم نہیں ہوں گے۔

فریڈم اور جسٹس پارٹی کے سرکردہ نمائندے سعد القطانی نے مزید کہا کہ مصر کی کرسچن آبادی کی پارٹی میں شمولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ اخوان المسلمون پر اب تک ہونے والے الزام تراشی بے بنیاد تھی’’ہم قبطی مسیحوں کو مصر کا ایک حصے سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ہمارے بھائی ہیں‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت مصری باشندوں کی جماعت ہے، ایک عوامی پارٹی ہے۔ اس کی بنیاد اسلامی اصول ہیں۔ ساتھ ہی القطانی نے اعلان کیا کہ 17جون کو پارٹی کو مکمل کرنے کا عمل ختم ہو جائے گا، جس کے بعد باقاعدہ طور پر سیاسی سرگرمیاں شروع کر دی جائیں گی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس