1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر ميں عورتوں کا پہلا ريڈيو اسٹيشن

مصر ميں عورتوں کے ايک پہلے ريڈيو اسٹيشن کی نشريات جاری ہيں۔ اس منصوبے کے ليے جرمنی نے بھی حال ہی ميں مالی مدد فراہم کی ہے۔

امانی التونسی

امانی التونسی

عورتوں کے ريڈيو اسٹيشن کا مقصد معاشرے ميں خواتين کی صورتحال کی طرف توجہ دلانا ہے۔ ليکن اس نشرياتی ادارے ميں کام کرنے والی عورتوں کو خطرات کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

ہيمبیرگ ميں ماہانہ ميٹنگ

ہيمبیرگ ميں ماہانہ ميٹنگ

مصر ميں عورت کو اب بھی اس کے شوہر کی ملکيت سمجھا جاتا ہے۔ خاتون صحافی امانی التونسی نے ايک مرتبہ ديکھا کہ ايک شخص برسرعام اپنی بيوی کو مار پيٹ رہا تھا۔ وہ اُس عورت کی مدد کو دوڑيں اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے خواتين کا پہلا اور واحد ريڈيواسٹيشن قائم کرنے کا فيصلہ بھی کر ليا۔ يہ تين سال پہلے کی بات ہے۔

امانی التونسی نے بتايا کو انہوں نے اس کے ليے قرض ليا اور ريڈيو اسٹيشن کے ليے لائسنس کی درخواست بھی داخل کرا دی۔ وہ اس ريڈيو اسٹيشن کی نشريات ميں عورتوں پر تشدد، اُن کی مالی آزادی اور حقوق نسواں کو موضوع بناتی ہيں۔

شروع کی مشکلات کے بعد اب يہ انٹرنيٹ ريڈيو روز بروز مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ اُس کے سامعين کی تعداد ميں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ التونسی نے کہا کہ پچھلے سال اُن کے سامعين کی تعداد 50 لاکھ تکق پہنچ گئی تھی۔ اس دوران ان کی رفقائے کار کی تعداد 25 ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مردوں کو مستقل ملازمت نہيں دينا چاہتيں کيونکہ وہ اکثر اُن کے نظريات کی مخالفت ہی کرتے ہيں۔

انٹرنيٹ ريڈيو ’بنات و بس‘ ( صرف لڑکياں) کا ٹائٹل فوٹو

انٹرنيٹ ريڈيو ’بنات و بس‘ ( صرف لڑکياں) کا ٹائٹل فوٹو

اس نشرياتی ادارے کے وجود کو قائم رکھنے کے سلسلے ميں درپيش مالی مسائل اور سياسی دباؤ نے امانی پر گہرے اثرات ڈالے ہيں۔ وہ 28 سال سے کہيں زيادہ عمر والی نظر آتی ہيں۔ مصر کے ہنگاموں کے دوران وہ مظاہروں کے گڑھ تحرير چوک پر کيمرہ ليے موجود ہوتی تھيں۔ وہاں انہيں گرفتار کر کے پوچھ گچھ بھی کی گئی تھی۔

امانی التونسی کا کہنا ہے کہ مصر کے سياسی حالات مبہم سے ہيں اور برسرعام سرگرميوں ميں حصہ لينے والی عورتوں کو بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔ اسلامی عناصر خواتين کی اس قسم کی سرگرميوں کو اچھی نظر سے نہيں ديکھتے۔

حال ہی ميں جرمن شہر ہيمبرگ کی فيليا نامی فاؤنڈيشن نے التونسی کے ريڈيو اسٹيشن کو عطيے کے بطور رقم دی ہے، جس سے اس ريڈيو اسٹيشن کی مالی مشکلات بہت حد تک حل ہو گئی ہيں۔ التونسی کو يہ بھی اميد ہے کہ فيليا نے چندے جمع کرنے کی جو مہم شروع کی ہے، اُس کے ذريعے بھی رقم جمع ہو سکے گی۔

رپورٹ: کاتھرين ايرڈ من / شہاب احمد صديقی

ادارت: امجد علی   

 

DW.COM