1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر ميں اخوان المسلمون اقتدار کے قريب

مصر ميں اخوان المسلمون تنظيم 83 سال کے طويل انتظار کے بعد يہ محسوس کر رہی ہے کہ وہ اس مرکزکے قريب پہنچ چکی ہے، جہاں يہ فيصلے کيے جاتے ہيں کہ مصر پر کس طرح حکومت کی جائے گی۔

مصر ميں انتخابات کے بعد تحرير چوک پر مظاہرہ

مصر ميں انتخابات کے بعد تحرير چوک پر مظاہرہ

مصر ميں اخوان المسلمون اور حکومتوں کے ساتھ اس کے تنازعات کی تاريخ خاصی قديم ہے۔ اس نے اپنا وجود کسی نہ کسی طرح قائم رکھا ہے۔ اس تحريک کو اميد ہے کہ وہ سياسی اور اقتصادی انحطاط کے شکارمصرکو نشاۃ ثانيہ کا پيغام دے سکے گی۔

اخوان المسلمون تنظيم کو اميد ہے کہ دھيمے قدم اٹھاتے ہوئے وہ ملک کے اندر اور باہر اپنے ارادوں کے بارے ميں شکوک دور کر سکے گی۔

مصر ميں اس ہفتے ہونے والے انتخابات ميں اخوان المسلمون کی واضح کاميابی نے ملک کو ايک ايسے امکان کے قريب پہنچا ديا ہے، جس کا تصورصرف ايک سال قبل ہی ممکن نہيں تھا، يعنی ايک ايسے گروپ کے زير اثر، بلکہ اس کی قيادت ميں حکومت کا قيام، جس پر سابق صدر حسنی مبارک کے دور ميں پابندی عائد تھی۔

ڈاکٹروں، اساتذہ اور انجينئيروں کے زير قيادت اس پارٹی کا نعرہ اب بھی يہی ہے کہ ’اسلام ہی حل‘ ہے۔ ايک ڈاکٹر عصام الايريان نے کہا: ’’يہ مصر کو ايک جديد ملک بنانے کا وقت ہے۔‘‘ انہوں نے اپنی پارٹی کا موازنہ اسلامی جڑيں رکھنے والی ترکی کی برسراقتدار پارٹی عدالت و ترقی سے کرنے کو رد کر ديا اور کہا: ’’مجھے اميد ہے کہ ہم مصر ميں ايک مختلف ماڈل پيش کر سکيں گے۔ ہم ايک جديد جمہوری رياست قائم کريں گے۔‘‘

اخوان المسلمون طلبا الزہر يونيورسٹی ميں ايک مظاہرے کے دوران قرآن اٹھائے ہوئے ہيں

اخوان المسلمون طلبا الزہر يونيورسٹی ميں ايک مظاہرے کے دوران قرآن اٹھائے ہوئے ہيں

اخوان المسلمون کو سن 1928 ميں حسن البنّا نے قائم کيا تھا۔ اسے شروع ہی سے حکمرانوں کے ساتھ تنازعے کا سامنا رہا ہے۔ حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد اب اُسے اسلام کا نام لينے والے نئے اورزيادہ شدت پسند گروپوں سے بھی مقابلہ کرنا ہو گا۔

ناقدين کو آزادی پر قدغن لگائے جانے کا خطرہ ہے۔ مصرکے سيکولرطبقے کو انديشہ ہے کہ اخوان المسلمون اسلامی قوانين کے سخت نفاذ کے قائل ہيں اور وہ شراب کی فروخت پر پابندی لگا ديں گے۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM